Share this link via
Personality Websites!
ایک حدیث شریف میں ہے:
عُمَرُ سِرَاجُ اَهْلِ الْجَنَّةِ
ترجمہ: عُمر اَہْلِ جنّت کے چراغ ہیں۔([1])
مزید اِرْشاد ہوا:
ہٰذَا رَجُلٌ لَایُحِبُّ الْبَاطِلَ
ترجمہ: عُمر وہ شخص ہے، جو باطِل کو پسند نہیں کرتا۔ ([2])
ایک بہت ہی پیاری روایت ہے، رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:
رِضَا اللہ رِضَا عُمَرَ وَرِضَا عُمَرَ رِضَا اللہ
ترجمہ: اللہ پاک کی رِضا عمر کی رِضا ہے اور عمر کی رِضا اللہ پاک کی رِضا ہے۔([3])
پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے بیان کی ابتدا میں ایک آیتِ کریمہ سننے کی سعادت حاصِل کی، یہ آیتِ کریمہ ہمیں زِندگی گزارنے کے لیے ایک اَہَم تَرِین سبق دیتی ہے، وہ سبق کیا ہے اور اس سبق کے متعلق فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کی سیرتِ طیبہ سے ہمیں کیا راہنمائی ملتی ہے، یہ آج ہم سننے کی سعادت حاصِل کریں گے۔ آئیے! پہلے آیتِ کریمہ کو سمجھ لیتے ہیں، اللہ پاک نے فرمایا:
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ(۱۱۵)
(پارہ:18، سورۂ مؤمنون:115)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان : تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نےتمہیں بیکار بنایا اور تم ہماری طرف لوٹائے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami