Share this link via
Personality Websites!
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان : تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو ! یکم محّرم شریف کو مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ، وزیرِ مصطفےٰ، ترجمانِ نبی، ہم زبانِ نبی، حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کا یومِ شہادت ہے۔([1]) حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ عظیمُ الشَّانِ صحابئ رسول ہیں، محبوبِ ذِیْشان، مکی مَدَنی سُلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نےدُعا کی تھی:
اَللّٰہُمَّ اَعِزَّ الْاِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِِ الْخَطَّابِ خَاصَةً
ترجمہ: اے اللہ پاک! عمر بن خطّاب ہی کے ذریعے اِسلام کی عزّت میں اِضافہ فرما۔([2])
آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی اِس دُعا کے نتیجے میں حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ نے اِسلام قبول کیا، اس لیے آپ کو مُرادِ رَسول بھی کہا جاتا ہے۔
فضائِلِ فارُوقِ اعظم پر احادِیثِ کریمہ
مَحْبوبِ ذِیشان، مکی مَدَنی سُلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:
مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ عَلٰى رَجُلٍ خَيْرٍ مِّنْ عُمَرَ
ترجمہ: حضرت عمر رَضِیَ اللہ عنہ سے بہتر کسی آدمی پر سُورج طلوع نہیں ہوا۔([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami