Share this link via
Personality Websites!
ڈرتے تھے کہ اس مَنصب کی وجہ سے کہیں خود پسندی میں مبتلا نہ ہو جاؤں، تبھی اس طرح کی کمال عاجزی والی ادائیں اپنایا کرتے تھے۔
نفس کو سُدھارنے والے ہی کامیاب ہیں
پیارے اسلامی بھائیو! اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہم بھی اپنا جائزہ لینے والے بنیں، دُنیا بھر کو تو نصیحتیں کرتے ہیں، خُود کو بھی نصیحت کرنے والے بن جائیں۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَاﭪ(۹) وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ(۱۰)
(پارہ:30، سورۂ وَالشَّمْس:10)
تَرْجمہ ٔ کَنْزُالعِرْفان : بیشک جس نے نفس کو پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا ۔اور بیشک جس نے نفس کو گناہوں میں چھپا دیا وہ ناکام ہوگیا۔
اس آیتِ کریمہ میں صاف صاف فرما دیا گیا کہ کامیاب وہی ہے جو اپنے نفس کو سُدھار لیتا ہے اور جو اسے نہ سُدھار سکے، وہ ناکام و نامُراد ہے۔
صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہ م کا ایک لشکر جنگ سے واپس آیا تو اللہ پاک کے سب سے آخری نبی ، مکی مَدَنی صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے ان سے ارشادفرمایا: خوش آمدید! تم چھوٹی جنگ سے بڑی جنگ کی طرف آئے ہو۔عرض کی گئی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم بڑی جنگ کیا ہے؟ارشاد فرمایا:مُجَاہِدَۃُ الْعَبْدِ ہَوَاہٗیعنی بندے کا اپنے نفس سے لڑنا بڑی جنگ ہے۔([1])
ایک اور حدیثِ پاک میں ہے: اَلْمُجَاھِدُمَنْ جَاھَدَ نَفْسَہٗ فِیْ طَاعَةِ اللہ یعنی مُجاہِد وہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami