Share this link via
Personality Websites!
مجمعے میں کھڑے ہو کر اپنے ماضِی کو یاد کیا اور نفس کو یہ بتایا دِیا کہ اے نفس! آج جو رُتبہ تمہیں میسر ہے، اس پر غرور مت کرنا، یہ سب اللہ پاک کی کرم نوازی ہے، اس کی عنایت ہے، ہمیشہ اس کے حُضُور عاجزی کرتےہوئے شکر کا سَر جھکائے رکھنا۔
دوسرے بر حق خلیفہ نائبِ میرِ حجاز شوکتِ اسلام کا وہ اک نشانِ امتیاز
نامِ نامی تھا عمر جن کا، لقب فاروق تھا پیکرِ عَزم و حَمِیّت، صاف ظاہر پاکباز
وضاحت: اللہ پاک کے حبیب صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کے دوسرے بر حق خلیفہ جن کا نام عمر اور لقب فاروق ہے، اِسلام کی شان و شوکت کا نشانِ امتیاز ہیں۔ آپ عزم و حوصلہ، دینی غیرت ، ظاہر وباطن کی پاکیزگی کےآئینہ دار تھے۔
حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کے شہزادے حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ نے پانی کا مشکیزہ اپنے کندھوں پر اُٹھا لیا (حالانکہ آپ اس وقت خلیفہ تھے، چاہتے تو بیسیوں مُلازِم یہ کام کر دیتے مگر آپ نے خُود اپنے کندھوں پر مشکیزہ اُٹھایا) آپ سے عرض کی گئی: حُضُور! آپ رہنے دیجیے! ہم یہ کام کر لیتے ہیں۔ فرمایا: اِنَّ نَفْسِیْ اَعْجَبَتْنِیْ فَارَدْتُّ اَن اُذِلَّہَا یعنی میرے نفس نے مجھے خُود پسندی میں مبتلا کر دیا تو میں نے اسے نیچا دِکھانے کی ٹھان لی۔([1])
اللہ اکبر! کہاں حضرت فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ جیسی بلند رُتبہ ہستی اور کہاں خُود پسندی جیسی بُری باطنی بیماری...!! خُود پسندی تو آپ کے قریب سے بھی نہ گزری ہو گی مگر یہ حضرت فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کی کمال عاجزی ہے، آپ وقت کے خلیفہ تھے، لہٰذا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami