Share this link via
Personality Websites!
تھے کہ کوئی بڑی اہم بات ہو گی مگر آپ نے تو اپنے ماضِی کی ایک عام سی بات بتائی اور بس...!! کیا ہم سب کو صِرْف اسی لیے جمع کیا گیا تھا؟) اس مجمع میں عظیم صحابئ رسول حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہ عنہ بھی موجُود تھے، آپ نے ہمّت کر کے عرض کیا: اے اَمِیُر الْمُؤمِنِین! مجھے نہیں لگتا کہ آپ نے صِرْف یہی بات بتانے کےلیے لوگوں کو جمع کیا ہے؟ شاید آپ کچھ اور ہی فرمانا چاہتے ہیں؟ حضرت فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ نے فرمایا: اے عوف کے بیٹے! بات دَرْ اَصْل یہ ہے کہ میں تنہائی میں تھا، میرے نفس نے مجھے کہا: اے عمر! اب تم اَمِیرُ الْمُؤمِنِین ہو، سب مسلمانوں کے خلیفہ ہو، تمہارے اور خُدا کے درمیان اس وقت کوئی اور واسطہ نہیں ہے، پَس تم ہی سب سے اَفْضَل ہو....!! فرمایا: جب میرے نفس نے مجھے یُوں وسوسہ دِلایا تو میں نے آپ سب کو جمع کر کے، اپنی پُرانی یاد آپ سب کے سامنے بیان کر کے نفس کو اس کی اَوْقات یاد دِلا دی۔ ([1])
اللہ ! اللہ ! پیارے اسلامی بھائیو! یہ کیسی عظیم بات ہے...!! *وقت کے خلیفہ ہیں *قطعی جنّتی صحابی ہیں*یقیناً جب آپ کا دَورِ خِلافت تھا، یعنی پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم اور حضرت صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللہ عنہ دُنیا سے پردہ فرما چکے تھے، اس وقت زندہ لوگوں میں سب سے اَفْضَل حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ ہی تھے، جب ایسی حالت ہو، انسان اتنے بڑے مرتبے پر پہنچا ہوا ہو تو کبھی نہ کبھی دِل میں خیال آ ہی جاتا ہے کہ میں اتنے بڑے رُتبے والا ہوں لیکن قربان جائیے! حضرت فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کی سوچ کتنی اعلیٰ تھی، آپ نفس کی چالوں اور شرارتوں سے کس حد تک وَاقفیت رکھتے تھے کہ ذرا سا خیال ہی آیا، اس سے پہلے کہ یہ خیال خُود پسندی کا رُخ اختیار کرتا، آپ نے فورًا بھرے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami