Share this link via
Personality Websites!
بتانے والے کو ڈانٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ ہے: خُود فَرامَوشِی۔ اپنے آپ کو ہی بُھول جانا۔ یہ بھی ہمیں ڈِی ریل کرنے(Derail) (یعنی پٹڑی سے اُتارنے) والا عیب ہے۔ اس کے سبب بھی ہماری ذاتی زِندگی عَبَث (یعنی بیکار) ہو کر رہ جاتی ہے۔
حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کی سیرتِ پاک دیکھیے! آدھی دُنیا کے اکیلے حکمران؛ آپ کو پتا ہو گا کہ کَوْڑَا آپ کے ہاتھ میں رہتا تھا، آپ بازاروں میں جا کر لوگوں کا جائزہ لیا کرتے تھے، راتوں کو گلیوں میں گشت کر کے لوگوں پر نگاہ رکھتے تھے، دُنیا کے بڑے بڑے بادشاہ کیا منصوبے بنا رہے ہیں، جن کی نگاہوں میں یہ سب کچھ تھا مگر ان سب مصروفیات کے باوُجُود آپ ایک لمحے کے لیے بھی اپنے آپ کو نہیں بھولتے تھے۔
نفس کے وسوسے کی حیرت انگیز کاٹ
حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کا دَورِ خِلافت تھا، ایک دِن آپ نے اچانک اِعْلان کروایا کہ سب لوگ مَسجد میں جمع ہو جائیں۔ جلد ہی سب لوگ مسجد میں جمع ہو گئے، اب حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ منبر پر تشریف لائے، آپ نے اللہ پاک کی حمد و ثنا کی، پِھر فرمایا: اے لوگو...!! میں نے اپنے آپ کے مُتَعَلِّق غور کیا تو مجھے یاد آیا کہ ایک وقت وہ بھی تھا جب میں اپنی خالہ جان کی بکریاں چَراتا تھا، ان کے لیے کنویں سے پانی نکالا کرتا تھا، میرے اس کام پر میری خالہ مجھے مُٹّھی بَھر کھجورَیں دے دیا کرتی تھیں۔
حضرت فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ نے بَس اتنا ہی فرمایا اور منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔ (لوگ حیران تھے کہ یہ کیابات ہوئی، سب کو جمع کیا، منبر پر تشریف لائے، ہم تو سمجھ رہے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami