Share this link via
Personality Websites!
اس کے باوُجُود کھانے، پینے اور پہننے میں بہت سادگی اپنا رہے ہیں۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے اندر سے نُمائش کا بُھوت نکال دینا چاہیے، ایک اچھا، سدھرا ہوا، نیک مسلمان، معاشرے کا ایک اچھا اور بااَخْلاق فرد بننے کی ضرور کوشش کیجیے! مگر نُمائش والی ذِہنیت ختم کر دیجیے! اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! زندگی خُود بخود آسان ہو جائے گی۔
(3):خُود فراموشی Self-righteousness
تیسرا بُحْران جو آج کے دَور میں مُعَاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے چُکا ہے، وہ ہے: خُود فَرامَوشِی Self-righteousness۔ آج ہمیں سب دِکھتا ہے *پڑوسی کیا کر رہا ہے، ہمیں نظر آتا ہے *بازار میں کیا ہو رہا ہے، ہمیں نظر آتا ہے *بلکہ وزیرِ اعظم ہاؤس (جہاں ہم کبھی گئے بھی نہیں) وہاں کیا ہو رہا ہے، یہ بھی ہمیں نظر آتا ہے *دوسرے مُلکوں تک کی خبریں ہمارے پاس موجود بھی ہیں اور ہم تبصرے بھی کرتے ہیں *مسجد میں جائیں تو اِمام صاحِب کتنے سیکنڈ لیٹ مصلے پر پہنچے تھے، یہ بھی ہمیں نظر آتا ہے *سجدے میں جاتے وقت امام صاحِب کے پاؤں کہاں تھے، یہ بھی ہمیں نظر آجاتا ہے *ہمارا عموماً بولا جانے والا جملہ ہے: بَس یار...! زمانہ ہی خراب ہے یعنی ہمیں پُورا زمانہ نظر آ رہا ہے۔ ایک چیز ہے جو ہمیں نظر نہیں آتی: ہماری اپنی ذات *میرا نفسِ اَمَّارہ کیسے مجھے بُرائیوں پر اُبھار کر غلط رستوں پر چلا رہا ہے *شیطان کس آسانی کے ساتھ مجھے بہکا کر نمازیں قضا کروا لیتا ہے *میرے اندر کتنے عیب موجود ہیں *میرے اندر کون کون سی کمیاں ہیں *وہ کمیاں مجھے کیا کیا نقصان پہنچا رہی ہیں *میں اُن کمیوں کو دُور کیسے کر سکتا ہوں۔ یہ ہمیں نظر نہیں آتا۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی ہمیں بتا دے کہ بھائی! آپ کے اندر یہ کمی ہے تو ہم ماننے کو بھی تیار نہیں ہوتے، اُلٹا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami