Share this link via
Personality Websites!
روتے یہاں تک کہ اللہ پاک نے آپ کو اپنی رحمت ورضوان کی طرف بلالیا۔
حضرت فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کی یہ فِکْرِ آخرت والی، عشقِ رسول والی باتیں سُن کر عرض کرنے والے واپس آگئے اور آپ رَضِیَ اللہ عنہ نے آخری وقت تک سادگی وعاجزی والا لباس پہننا جاری رکھا۔([1])
عزّت ساری کی ساری اللہ و رسول کی ہے
ایک مرتبہ حضرت فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ مُلْکِ شام تشریف لے گئے، حضرت ابوعبیدہ بن جَرَّاح رَضِیَ اللہ عنہ بھی ساتھ تھے، دونوں ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں گھٹنوں تک پانی تھا، آپ اپنی اُونٹنی پر سُوار تھے، اس مقام پر پہنچ کر اُونٹنی سے اُترے، اپنے موزے اُتار کر اپنے کندھوں پر رکھے اور اُونٹنی کی رَسّی پکڑ کر پانی میں داخِل ہو گئے۔ یہ انداز دیکھ کر حضرت اَبُو عبیدہ رَضِیَ اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اَمِیرُ الْمُؤمِنِین ...!! یہاں کے لوگ آپ کو اس حالت میں دیکھیں، مجھے یہ بالکل اچھا نہیں لگ رہا۔
حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابوعبیدہ! تمہارے عِلاوہ کوئی اور یہ بات کہتا تو میں اسے نشانِ عبرت بنا دیتا، یاد رکھو! ہم بےسرو سامان قوم تھے، پِھر اللہ پاک نے اسلام کے ذریعے ہمیں عزّت بخشی، پس اگر ہم اسلام کے عِلاوہ کہیں اور سے عزّت ڈھونڈیں گے تو اللہ پاک ہمیں رُسْوا کر دے گا۔([2])
اللہ اکبر! پیارے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے! حضرت عمر فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ نمود و نُمائش سے کتنے دُور تھے، اپنے دور کے سب سے بڑے اور سب سے طاقتور بادشاہ ہیں،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami