Share this link via
Personality Websites!
نہیں بلکہ دُنیا بھر کے بڑے بڑے بادشاہوں کی نگاہیں بھی آپ کی طرف لگی ہوئی تھیں لیکن آپ نے اپنی ذات کا آئینہ (Mirror) لوگوں کو نہیں بنایا تھا، آپ اللہ پاک کی جانِب متوجہ رہتے تھے، یعنی آپ کی زندگی میں یہ اَہَم نہیں تھا کہ لوگ مجھے کیا کہیں گے، یہ اَہَم تھا کہ اللہ پاک کے ہاں میرا کیا مقام ہے۔
روایت ہے : ایک مرتبہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کی خِدْمت میں عرض کیا گیا: اب آپ اَمِيرُ الْمُؤْمِنِيْنَ ہیں، اللہ پاک نے آپ کے ہاتھ پر قیصر و کسریٰ کی حکومتیں فتح کر دی ہیں، گزارش ہے کہ آپ اچھا قیمتی لباس پہنا کیجیے! اعلیٰ اعلیٰ کھانے کھایا کیجیے! تاکہ آپ کی خِدْمت میں حاضِر ہونے والوں پر آپ کا رُعب طاری ہو۔ یہ سن کر حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ زاروقطار رو نے لگے۔ پِھر گزارش کرنے والے سے فرمایا: کیا حضورنبی رحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے 3دن مسلسل پیٹ بھر کر کھانا کھایا؟ کیا آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے کبھی زمین سے اونچا کھانے کا میز لگوایا ؟ آپ تو زمین پر کھانے کا برتن رکھوالیتے ۔مزید فرمایا: میرے علم میں ہے کہ اللہ پاک کے نبی، مکی مَدَنی صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے ہمیشہ اُون کا جُبّہ پہنا جس کی سختی سے آپ کا مُبارَک جسم بسا اوقات زخمی ہو جاتا۔ آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کے گھر میں جو دن کو ایک چٹائی اور رات کو بستر بچھایا جاتا تھا، وہ اتنا کُھردرا ہوتا تھا کہ آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کے مُبارَک جسم پر اس کے نشانات بن جاتے تھے، آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے اس طرح زندگی گزاری کہ راتوں کو جاگتے، رکوع وسجود فرماتے، دن رات خُشُوع وخُضُوع کے ساتھ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami