Share this link via
Personality Websites!
کو گرمی سردِی سے بچانا کم مقصُود ہوتا ہے، میرا جُوتا دوسروں کو کتنا اچھا لگے گا، اس پر زیادہ نظر ہوتی ہے، میں ایک ذہنیت کی بات کر رہا ہوں، وَیْل ڈَرَیس (Well-dressed) یعنی اچھے لباس والا ہونا بھی اچھی بات ہے مگر ہماری نُمَائش کی سوچ اتنی حَدْ سے بڑھ گئی ہے کہ ہم چیزوں کے مقاصِد کو بُھول کر نمائش کو فوقیت دیتے ہیں *آج ہماری اَکْثَرِیّت بالخصوص نوجوانوں میں یہ دوڑ آپ کو عمومًا مِل جائے گی: *میرا گھر اچھا ہو *میرے پاس گاڑی بہترین ہو *میرے پاس بینک بیلنس ہو *موبائِل بہترین ہونا چاہیے *بلکہ ایک مزے کی بات عرض کروں؛ جو حقیقت میں غریب ہیں نا، وہ بھی انداز اور طور طریقے امیروں والے اپنانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، سوشل میڈیا کے نقصانات میں سے ایک نقصان یہ بھی ہے ، اس نے غریبوں کو ان کی غربت سے بَدْ ظَنْ کر دیا ہے۔ ہمارے مُعَاشرے میں سینکڑوں گھر ایسے مِل جائیں گے جہاں بےسکونی اور لڑائی جھگڑا صِرْف و صِرْف اس لیے چل رہا ہے کہ میں نے فیس بُک(Facebook) پر ایسا گھر دیکھا تھا، میرا ایسا نہیں ہے، رِیْل(Reel) میں فُلاں کے کپڑے ایسے اعلیٰ تھے، میرے ایسے نہیں ہیں۔
یعنی یہ ایک نُمائش کی دوڑ ہے، ہم لوگوں کی نظر میں امیر، اچھے اور پتا نہیں کیا کیا بننے کے چکّر میں زندگی کے اَصْل مقصد سے ہٹ جاتے ہیں، نتیجۃً ہماری زندگی عَبَثْ (بیکار) یعنی اپنی منزل سے ناآشنا ہو کر رِہ جاتی ہے۔
مسلمانوں کے دُوسرے خلیفہ حضرت عمر فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کی سیرتِ پاک کا حُسْن جانتے ہیں کیا ہے...؟ ویسے آپ آدھی دُنیا کے تنہا حکمران تھے، صِرْف عام لوگ ہی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami