Share this link via
Personality Websites!
پیارے آقا صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم فجر کے لیے جگاتے
* جب یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی ، تو رسولِ ذیشان ، مکی مدنی سلطان صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم روزانہ فجر کے وقت حضرت علی المرتضی رَضِیَ اللہ عنہ کے دروازے پر تشریف لے جاتے اور فرماتے: اَلصَّلاَۃُ رَحِمَکُمُ اللہ ۔یعنی اللہ پاک تم پر رحم فرمائے ،نماز پڑھو...! ([1]) * حضرت ابو بَکْرَہ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں پیارے آقا، مکی مدنی مصطفے ٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ نمازِ فجر کے لیے نکلا ،(راستے میں )آپ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم سوئے ہوئے افراد کو نماز کے لیے آواز دیتے یا پاؤں سے ہلاتے۔ ([2])
نماز فجر کے لیے جگانے کے مُتَعَلِّق احکام وآداب
(1):نماز کے لیے جگانا ثواب کا کام ہے۔ ([3]) (2): اگر کوئی شخص نماز کے وقت سو رہا ہے، اس کے بارے میں ظنِّ غالب ہے کہ اگر اسے جگایا جائے تو یہ اُٹھ کر نَماز پڑھ لے گا تو اسے جگانا واجب ہے۔ ([4]) (3):نمازِ فجر کے لیے بہت زیادہ پہلے نہ جگایا جائے بلکہ ایسے وقت جگائیے کہ استنجاء ،وضو وغیرہ کر کے اور سنتیں پڑھ کر تکبیر ِاولیٰ میں شامل ہو سکیں ۔([5])
*فجر کے لیے جگانے کی برکت سے خود اپنی نماز کی حفاظت ہوتی ہے * فجر کے لیے جگانے کی برکت سے مسجد کی پہلی صف میں تکبیرِاُولیٰ کے ساتھ نمازِ فجرکی ادائیگی کی سعادت نصیب ہو سکتی ہے۔ * فجر کے لیے جگانے کی برکت سے جتنے لوگ نماز پڑھیں گے اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم!ان سب کی نمازوں کا بھی ثواب ملے گا * فجر کے لیے جگانے کی برکت سے مسجدیں آباد ہوتی ہیں * فجر کے لیے جگانے کی برکت سے نیکی کی دعوت دینے کا ثواب بھی نصیب ہوتا ہے ۔ روایات میں ہے :*.. جو نیکی کے کاموں کی دعوت دے،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami