Share this link via
Personality Websites!
وضاحت:اِس تعریف میں 4 چیزیں بیان ہوئی ہیں اور نیک عمل میں ان 4 چیزوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ (1):اذانِ فجر کے بعد جگانا:اس سے پہلے نہ جگایا جائے (2): جماعت سے پہلے جگانا:یاد رکھیے ! نیک عمل و دینی کام یہ ہے کہ جماعت سے پہلے جگایا جائے۔ کیونکہ اَصْل مقصد ہے: نیکی پر مدد کرنا اور مسجدیں آباد کرنا۔ یہ مقصد پُورے طور پر تبھی حاصِل ہو گا جبکہ جماعت سے پہلے جگائیں تاکہ لوگ مسجد میں پہنچ کر باجماعت نماز ادا کر سکیں، البتہ اگر جماعت کے بعد بھی کسی ایسے شخص کو سوتا دیکھیں جس نے ابھی نماز نہیں پڑھی تو جگا دیں ، ثواب ملے گا (3):تنظیمی دائرے میں رہتے ہوئے جگانا: یعنی جو کچھ تنظیمی اُصُول و ضوابط اور احتیاطیں ہیں، ان کا لحاظ رکھ کر فجر کے لیے جگائیں(4): شرعی دائرے میں رہتے ہوئے جگانا: یعنی جگانے کا ہر وہ طریقہ جو شرعًا درست نہ ہو، اُس سے بچنا۔ مثلاً * میگا فون کا استعمال نہ کریں*بعض لوگ رمضان کریم میں سحری کےلیے ڈھول وغیرہ بجا کر جگاتے ہیں * اُونچی آواز میں قوالیاں وغیرہ چلا کر جگاتے ہیں،یہ درست نہیں، اس سے لوگوں کو تکلیف ہو سکتی ہے، چھوٹے بچے ان کی آواز سے اُٹھ جاتے ہیں، بوڑھے اور بیمار افراد کو تکلیف پہنچ سکتی ہے * غرض ہر وہ انداز جو دوسروں کی تکلیف کا سبب بن سکتا ہو۔ اس سے بچ کر ہی جگائیے ۔
اللہ پاک نے فرمایا:
وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَاؕ- (پارہ:16،سورۂ طہٰ:132)
تَرْجَمۂ کَنْزُ الْعِرفَان : اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی نماز پر ڈٹے رہو۔
ایک قول کے مطابق آیتِ مبارکہ میں اہل سے تمام مسلمان مراد ہیں۔([1]) آیت کا مطلب یہ ہواکہ ہر شخص کو چاہیے ! خود بھی نماز پڑھے اور دوسرے مسلمانوں کو بھی نماز کی دعوت دے ۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami