Share this link via
Personality Websites!
کہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ *خُود بھی صِراطِ مُسْتَقِیم پر ہیں *سیدھے رستے پر چلتے ہیں اور *ساتھ ہی ساتھ دوسروں کو بھی عَدْل و اِنْصاف (Justice and fairness) کا دَرْس دیتے ہیں۔
اِس آیتِ کریمہ سے حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کی 2شانیں مَعْلُوم ہوئیں: (1): آپ صراطِ مستقیم پر (یعنی سیدھے رستے پر چلنے والے بھی) ہیں اور (2): دوسروں کو نیک راستے کا مُسَافِر بھی بناتے ہیں۔
پیارے اسلامی بھائیو! ہم ذرا تَوَجُّہ کریں تَو یہی تَو ہمارا مدنی مقصد بھی ہے:
مجھے اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اِصْلاح کی کوشش کرنی ہے۔ اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم!
یعنی وہ 2 اعلیٰ وَصْف جن پر قرآنِ کریم نے حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کی تعریف فرمائی، یہی 2 وَصْف ہم نے بھی اپنانے ہیں، خُود بھی ہمیشہ سیدھے راستے پر چلتے رہنا ہے، دوسروں کو بھی اسی کی ترغیب دِلاتے رہنا ہے۔
نیکی کی دعوت لذّت بھری عبادت ہے
حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عِبَادت کی لذّت 4چیزوں میں پائی ہے:(1):فِیْ اَدَاءِ فَرَائِضِ اللہ یعنی اللہ پاک کے فرائضِ کی ادائیگی میں (2): فِیْ اِجْتِنَابِ مَحَارِمِ اللہ اللہ پاک کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنے میں (3): فِی الْاَمْرِ باِلْمَعْرُوْفِ اِبْتِغَاءِ ثَوَابِ اللہ رِضائے اِلٰہی کے حُصُول کے لیے نیکی کی دعوت دینے میں (4): فِی الْنَہْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ اِتِّقَاءِ غَضْبِ اللہ اور اللہ پاک کے غضب سے بچنے کے لیے بُرائی سے منع کرنے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami