Share this link via
Personality Websites!
انہوں نے دین کو مضبوط کیا اور عالَم میں ہر طرف پھیلا دیا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! کنکریوں کی تسبیح والا جو واقعہ ہم نے سُنا، اِس میں ایک اِیْمان افروز بات ہے، جس کی جانِب میں تَوَجُّہ دِلانا چاہتا ہوں۔ دیکھیے! رسولِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اکیلے تشریف فرما تھے، یعنی مَعْمُول کے مُطَابِق یہ کسی دَرْس وغیرہ کا وقت نہیں تھا۔
اب صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم میں سے کوئی اپنے گھر پر ہوں گے، کوئی کام کاج پر ہوں گے لیکن جب یہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے، محبوبِ ذیشان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے تینوں سے ایک سُوال پوچھا: تمہیں کیا چیز یہاں کھینچ لائی ہے؟ یعنی نہ یہ نماز کا وقت ہے، نہ دَرْس کا وقت ہے، نہ عِلْمِ دِین کے کسی حلقے کا وقت ہے تو تُم لوگ ایسے وقت خِلافِ مَعْمُول کس وجہ سے آئے ہو؟ اِن تینوں صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم کا ایک ہی جواب تھا: ہمیں اللہ و رسول کی محبّت کھینچ لائی ہے۔
گویا یہ کہہ رہے تھے کہ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! ہم اپنے کام کاج میں مَصْرُوف تھے، ہم گھر پر تھے، ہم اپنے بچوں کے ساتھ تھے مگر دِل بےچین ہو رہا تھا، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی یاد ستا رہی تھی، کام کاج میں دِل نہیں لگ رہا تھا، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی محبّت، آپ کے دِیدار کی چاہت ہمیں اس وقت یہاں کھینچ لائی ہے۔
سُبْحٰنَ اللہ! پتا چلا؛ محبّت کے اندر کشش ہوتی ہے۔ محبّت کھینچتی ہے۔ ہمارے ہاں بھی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami