Share this link via
Personality Websites!
حاضِرہوتے تو ضرور ان کے ہاتھ پر بھی کنکریاں تسبیح پڑھتیں۔
ترتیبِ خِلافت کا قرآن میں ذِکْر
پیارے اسلامی بھائیو! اِسی ترتیبِ خِلافت کا ذِکْر قرآنِ کریم کی اِس آیتِ کریمہ میں بھی ہے، اللہ پاک فرماتا ہے:
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا٘-سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِؕ- (پارہ:26، سورۂ فتح:29)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ، آپس میں نرم دل ہیں۔تُو انہیں رکوع کرتے ہوئے، سجدے کرتے ہوئے دیکھے گا ،اللہ کا فضل و رضا چاہتے ہیں ، ان کی علامت ان کے چہروں میں سجدوں کے نشان سے ہے ۔
عُلَمائے کرام فرماتے ہیں: اِس آیتِ کریمہ میں* وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ ( اور ان کے ساتھ والے)سے مراد حضرت صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللہ عنہ ہیں* اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ ( کافروں پر سخت)حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ ہیں* رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ ( آپس میں نرم دل ہیں) حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ * اور تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا تُو انہیں رکوع کرتے ہوئے، سجدے کرتے ہوئے دیکھے گا )سے مراد چوتھے خلیفہ حضرت مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ ہیں۔ ([1])
چَہَارْ یَارَشْ تَا تَاجِ اَصْفِیَا نَشُدَنْدْ نَدَاشْتْ سَاعِدِ دینْ یَارَهْ داشْتَنْ یَارَا
مَفْہُوم : چار یارانِ نبی،ابو بکر و عمر و عثمان و علی رَضِیَ اللہ عنہم ، دین مبین کی قوت و طاقت ہیں،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami