Share this link via
Personality Websites!
اعظم رَضِیَ اللہ عنہ بھی آ گئے، اُنہوں نے بھی سلام کیا اور بیٹھ گئے، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے اُن سے پوچھا: عمر! کیا بات اِس وقت کھینچ لائی؟ عرض کیا: اللہ و رسول کی محبّت۔ *تھوڑی دیر بعد مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ بھی آگئے۔ اُنہوں نے بھی سلام کیا اور بیٹھ گئے۔ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے اُن سے بھی پوچھا: تمہیں کیا بات اِس وقت کھینچ لائی؟ انہوں نے بھی یہی عرض کیا: اللہ و رسول کی محبّت کھینچ لائی ہے۔
حضرت اَبُو ذَر رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسولِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے ہاتھ مبارَک میں 7 یا 9 کنکریاں (Pebbles) تھیں۔ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے اُنہیں اپنی ہتھیلی پر رکھا تو سُبْحٰنَ اللہ! اُن کنکریوں نے تسبیح شروع کر دی۔ میں اور سب حاضِرین اُن کی آواز سُن رہے تھے۔
پِھر آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے وہ کنکریاں زمین پر رکھ دیں تو وہ خامَوش ہو گئیں۔ پِھر آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے دوبارہ کنکریاں اُٹھائیں اور حضرت صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللہ عنہ کے ہاتھ مبارَک میں دے دِیں۔ جیسے ہی وہ حضرت صِدِّیقِ اکبر کے ہاتھ میں گئیں، پِھر تسبیح پڑھنے لگیں، اُن کی آواز ہم حاضِرین سُن رہے تھے۔ اِس کے بعد جُونہی اُنہیں زمین پر رکھا گیا تو وہ پِھر خاموش ہو گئیں۔
پِھر آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے کنکریاں حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کے ہاتھ پر رکھ دیں۔ وہ پِھر تسبیح پڑھنے لگیں، پِھر زمین پر رکھا تو خاموش ہو گئیں، تیسری بار آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے وہ کنکریاں حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کے ہاتھ پر رکھیں، اُنہوں نے پِھر تسبیح پڑھنی شروع کر دی، زمین پر رکھی گئیں تو خاموش ہو گئیں۔ اب آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami