Share this link via
Personality Websites!
ہیں: آخرت میں اللہ پاک کی طرف سے اَہْلِ جنّت کو جو سب سے بڑا انعام ملے گا، وہ اللہ پاک کی رضا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اللہ پاک کی رضا ملتی کیسے ہے؟ سیّدی اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں:
بَہم عَہْد باندھے ہیں وَصْلِ اَبَد کا رضائے خُدا اور رضائے مُحَمَّد([1])
وضاحت: ایک ہے اللہ پاک کی رِضا، ایک ہے محبوبِ خُدا صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی رضا، ان دونوں (یعنی رضائے خُدا اور رضائے مصطفےٰ) نے آپس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہ پختہ وعدہ کیا ہوا ہے کہ دونوں ساتھ ساتھ ہی رہیں گے، یعنی جسے اللہ پاک کی رضا چاہیے، وہ محبوبِ خُدا صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کو راضی کر لے، جس سے محبوبِ خُدا، مُحَمَّد ِ مصطفےٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم راضی ہو گئے، خُدائے دو جَہاں بھی اُس سے راضی ہو جائے گا۔
مَعْلُوم ہوا جس سے اللہ پاک کے مَحْبُوب نبی، رسولِ ہاشمی صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم راضی ہو جائیں، وہ آخرت کے سب سے بڑے انعام یعنی اللہ پاک کی رضا کا مستحق ہو جاتا ہے اور اللہ پاک کے فضل سے حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ وہ بلند رُتبہ صحابی ہیں کہ رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے ساری رات آپ کے لیے دُعا فرمائی: یااللہ پاک! میں عثمان سے راضی ہوں، تُو بھی اس سے راضی ہو جا۔
اندازہ لگائیے! یہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کی کتنی بڑی فضیلت ہے۔
اللہ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا محبوبِ خُدا یار ہے عثمانِ غنی کا
گرمی پہ یہ بازار ہے عثمانِ غنی کا اللہ خریدار ہے عثمانِ غنی کا([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami