Share this link via
Personality Websites!
سے پہلے کچھ اچھّی اچھّی نیّتیں کر لیتے ہیں، نیّت کیجیے!*رضائے الٰہی کے لیے بیان سُنوں گا*بااَدَب بیٹھوں گا* خوب تَوَجُّہ سے بیان سُنوں گا*جو سُنوں گا، اُسے یاد رکھنے، خُود عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
حضرت اَبُو ذَرّ غَفاری رَضِیَ اللہ عنہ صحابئ رسول ہیں، آپ فرماتے ہیں: میں مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کا ذِکْر ہمیشہ خیر ہی سے کرتا ہوں (یعنی اُن کی کبھی بھی بُرائی نہیں کرتا، جب بھی اُن کی بات ہو، تعریف ہی کرتا ہوں، ایسا کیوں ہے؟ فرماتے ہیں:) آپ کی ایک شان ہے جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی۔
اب وہ شان جو حضرت ابوذَر غَفاری رَضِیَ اللہ عنہ نے اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی، خُود اُنہی کی زبانی سنیے! فرماتے ہیں: میں پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی خَلْوَتَوں کا عاشِق تھا، تَلاش میں رہتا تھا، جب کبھی آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم تنہا ہوتے، میں فورًا حاضِر ہو جاتا اور عِلْمِ دِین سیکھتا۔ ایک دِن میں نے دیکھا کہ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اکیلے تشریف فرما ہیں، میں نے موقع غنیمت جانا اور فورًا حاضِر ہو گیا *ابھی بیٹھا ہی تھا (تھوڑی ہی دیر گزری تھی) کہ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ عنہ بھی وہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے حاضِر ہو کر سلام عرض کیا، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے جواب عنایت فرمایا اور پُوچھا: اَبُو بکر! کیا بات تمہیں اِس وقت یہاں کھینچ لائی؟ عرض کیا: اللہ وَ رَسُولُہٗ یعنی اللہ و رسول کی محبّت کھینچ لائی ہے۔
* ابھی تھوڑی ہی دَیْر گزری تھی کہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروقِ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami