Share this link via
Personality Websites!
ہے، میرے مانگنے کی حاجَت نہیں ہے۔
دَاتا حُضُور فرماتے ہیں: وہ حضرت اِبْراہیم عَلَیْہ ِالسَّلام تھے جو تسلیم و رضا کے اتنے بلند مقام پر پہنچے ہوئے تھے، جبریل عَلَیْہ ِالسَّلام مدد کے لیے حاضِر ہوتے ہیں، آپ مدد نہیں لیتے، اللہ پاک کی لکھی ہوئی تقدیر پر راضِی رہتے ہیں، اِدھر حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ ہیں، مُشکل ہے، پریشانی ہے، امتحان ہے، حضرت مولیٰ علی، امامِ حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللہ عنہما مدد کےلیےآتے ہیں مگر حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ ان کی مدد نہیں لیتے بلکہ اللہ پاک کی لکھی ہوئی تقدیر پر راضِی رہ رہے ہیں۔([1]) حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کی یہی وہ عظیم شان ہے جس کو بیان کرتے ہوئے اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے فرمایا: اِنَّا نُشَبِّهُ عُثْمَانَ بِاَبِیْنَا اِبْرَاہِیْمَ بےشک ہم عثمان کو اپنے والِد ابراہیم عَلَیْہ ِالسَّلام کے مُشابہہ سمجھتے ہیں۔([2])
یعنی حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کی سیرت میں حضرت ابراہیم عَلَیْہ ِالسَّلام کی جھلک موجود ہے۔ سُبْحٰنَ اللہ! یہ کتنی بڑی شان ہے...!!
اللہ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا محبوبِ خُدا یار ہے عثمانِ غنی کا
جس آئینہ میں نور الہٰی نظر آئے وہ آئینہ رخسار ہے عثمان غنی کا([3])
وضاحت: حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ اللہ پاک سے بےپناہ محبّت کرنے والے، محبوبِ خُدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے دوست اور صحابی ہیں، آپ کا چہرۂ مبارک ایسا روشن ہے کہ اس میں نُورِ اِلٰہی کی چمک رہتی ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami