Share this link via
Personality Websites!
ہو کر رہے گی۔([1])
رکھا مَحْصُوْر اُن کو بند ان پر کر دیا پانی شہادت حضرتِ عثمان کی بے شک ہے لَاثانی([2])
عثمانِ غنی کی ابراہیم عَلَیْہ ِالسَّلام سے مُشابہت
پیارے اسلامی بھائیو! اِس مقام پر حُضُور داتا گنج بخش علی ہُجویری رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے بڑا عِلمی نکتہ بیان فرمایا ہے، لکھتے ہیں: اِس مُحاصَرے کےدوران ایک مرتبہ حضرت امام حَسَن مجتبیٰ رَضِیَ اللہ عنہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، عرض کیا: اے اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن! اجازت دیجیے! ہم ان باغیوں کو اِن کے اَنْجام تک پہنچا دیں۔ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ نے فرمایا: اے بھتیجے! گھر جائیے! آرام کیجیے! یہاں تک کہ تقدیر کا لکھا غالِب آجائے، لَا حَاجَۃَ لَنَا فِی اِہْرَاقِ الدِّمَاءِ ہمیں خُون بہانے کی حاجت نہیں ہے۔
دَاتا حُضُور یہ روایت لکھنے کے بعد فرماتے ہیں: حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کی سیرتِ پاک کا یہ والا پہلو کہ باغی گھیراؤ کیے ہوئے ہیں، آپ سے مدد کی اِجازت چاہی جاتی ہے، عرض کیا جاتا ہے: اجازت دیجیے! ہم اِن باغیوں کو اَنْجام تک پہنچا دیں گے، آپ پِھر بھی کوئی اِقْدام نہیں کرتے، تقدیر پر راضی رہتے ہیں، آپ کی سیرتِ پاک کا یہ پہلو وہ ہے جو اللہ پاک کے نبی حضرت ابراہیم عَلَیْہ ِالسَّلام سے کمال مُشابہت رکھتا ہے، وہ وقت بھی تھا کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہ ِالسَّلام کو آگ میں ڈالا جا رہا تھا، جبریلِ امین عَلَیْہ ِالسَّلام حاضِر ہوتےہیں، عرض کرتے ہیں: اے ابراہیم عَلَیْہ ِالسَّلام! کوئی حاجَت ہو تو فرمائیے! فرمایا: حاجَت تو ہے تم سے نہیں ہے، عرض کیا: جس سے حاجَت ہے اُسی سے عرض کیجیے! فرمایا: اللہ پاک جانتا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami