Share this link via
Personality Websites!
کے لوگوں نے آپ کے خِلاف بغاوت کردی اور مدینۂ پاک آ کر آپ کے گھر مُبارَک کا گھیراؤ کر لیا۔ اب حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ اندر ہیں، آپ کو باہَر بھی نہیں نکلنے دیا جا رہا، باہَر سے کھانے پینے کا کوئی سامان اندر نہیں جانے دیا جا رہا، کئی دِن آپ نے اِسی طرح گُزار دئیے! آپ کے چاہنے والوں کی طرف سے بار بار عرض کیا جاتا رہا کہ عالی جاہ! حکم دیجیے! ہم اِن باغیوں کو کچھ ہی دَیر میں یہاں سے ہٹا دیں گے مگر آپ کا ایک ہی جواب تھا: پیارے آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے اور میں اِس پر صبر کرتا رہوں گا۔([1])
حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کے بے مثال صبر پر قُربان...!! جامِ شہادت تو پِی لِیا مگر مدینہ پاک میں مسلمانوں کا خُون بہنا پسند نہ فرمایا۔ آپ رَضِیَ اللہ عنہ کے مکانِ عالیشان کا مُحاصَرہ ہوا اَور پانی بند کر دیا گیا *جاں نثاروں نے دَولت خانے پر حاضِر ہوکر بَلوائیوں سے مُقابلے کی اِجازت چاہی مگر آپ رَضِیَ اللہ عنہ نے اِجازت دینے سے اِنکار فرما دیا اور *جب آپ رَضِیَ اللہ عنہ کے غُلام ہتھیاروں (weapons) سے لَیْس ہو کر اِجازت کے لیے حاضِر ہوئے تو فرمایا : اگر تم لوگ میری خُوشی چاہتے ہو تو ہتھیار کھول دو اور سُنو! تم میں سے جو بھی غُلام ہتھیار کھول دے گا میں نے اُس کو آزاد کیا۔ اللہ پاک کی قسم ! خُون بہانے سے پہلے میرا شہید ہو جانا مجھے زیادہ مَحْبوب ہے۔ میری شہادت لکھ دی گئی ہے اور رسولِ ذِیشان، مَحْبوبِ رَحمٰن صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے مجھے اِس کی خوشخبری دے دی ہے ۔ حضرت عُثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ نے اپنے غُلاموں سے فرمایا:اگر تم نے جنگ کی پھر بھی میری شہادت
[1]...ریاض النضرۃ، جز:3، الباب الثالث، الفصل الحادی عشر، ذکرعرض علی وغیرہ ...الخ، صفحہ:60 و 61 خلاصۃً۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami