Share this link via
Personality Websites!
پُوری کر چُکا اور کوئی ابھی انتظار کر رہا ہے ۔
یعنی صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم میں سے کچھ تَو وہ ہیں جو شہادت کا رُتبہ پا چکے اور کچھ ابھی انتظار کر رہے ہیں۔ عُلَمائے تفسیر فرماتے ہیں: ان انتظار کرنے والوں سے مراد حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ ہیں۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ!کیا شانِ عثمانِ غنی ہے...!! آپ کو بتایا جا رہا ہے کہ آپ کی تقدیر میں ایک بڑی آزمائش لکھی جا چکی ہے،اِس آزمائش سے گھبرا کر دُعائیں نہیں مانگتے، واویلا نہیں کرتے۔
ہمارے ہاں تَو لوگ چیخ پُکار مچا دیتے ہیں، شِکوے شکایات شروع کر دیتے ہیں *میں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا *آخر میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟ *میں ہی کیوں بیمار پڑ گیا *میری ہی قسمت میں غُربت کیوں آئی ہے؟ مَعَاذَ اللہ! لوگ ایسے شکوےکرتے ہیں۔ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کی شان دیکھیے! آپ آنے والی آزمائش پر شکوے کرنا تو دُور کی بات ہے، دِل میں خیال بھی نہیں لاتے بلکہ اس آزمائش تک پہنچنے اور ثابِت قدمی دکھاتے ہوئے شہادت کے رُتبے تک پہنچنے کا شِدَّت سے انتظار کر رہے ہیں۔
پیارے اسلامی بھائیو! وہ آزمائش کیا تھی؟ کتنا شدید امتحان تھا؟ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ اس میں کامیاب کیسے ہوئے؟ سنیے! روایات میں ہے: حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کی خِلافت کا آخری سال تھا، کچھ مُنَافقوں نے آپ کے خِلاف سازِش رَچائی، نتیجۃً مِصر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami