Share this link via
Personality Websites!
حضرت اَبُو مُوسیٰ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے دروازہ کھولا تو سامنے حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ تھے، میں نے انہیں جنّت کی خُوشخبری سُنائی اور یہ بھی بتایا کہ عنقریب انہیں ایک اِمتحان دَرْپیش ہو گا، حضرت عثمان رَضِیَ اللہ عنہ نے جنّت کی خُوشخبری ملنے پر اللہ پاک کا شکر ادا کیا اور کہا: اللہ الْمُسْتَعَانُ اللہ مددگارہے (یعنی مجھے جو مصیبت پہنچے گی، اللہ پاک کی مدد سے اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! میں اس میں کامیاب ہو جاؤں گا)۔([1])
اِس حدیثِ پاک میں بھی دیکھیے! پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے غیب کی خبر دِی اور بتایا کہ عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ ایک امتحان سے گُزریں گے، پِھر اس امتحان میں کامیاب بھی ہوں گے اور اُس کے بعد جنّت میں پہنچ جائیں گے۔ سُبْحٰنَ اللہ! یہ ہے میرے مَحْبُوب صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کا عِلْمِ غیب...!! اِسی لیے تو ہم کہتے ہیں:
جو ہو چکا ہے جو ہو گا حُضُور جانتے ہیں تیری عَطا سے خُدایا حُضُور جانتے ہیں
وہی ہیں پیکرِ شَرم و حَیا و ذُو النُّورَیْن مقام اُن کی حَیا کا حُضُور جانتے ہیں
پیارے اسلامی بھائیو! دیکھیے! حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کو بتا دیا گیا کہ آپ کی تقدیر میں ایک بڑا اِمْتحان لکھا جا چکا ہے، آپ کو اِس امتحان سے گزرنا ہو گا۔ اب حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ اِس تقدیر پر کس حَدْ تک اور کس انداز سے راضِی تھے؟ قرآنِ کریم کی آیت سنیے! اللہ پاک فرماتا ہے:
فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ﳲ (پارہ:21، سورۂ احزاب:23)
تَرْجَمَہ کَنْزُ الْعِرْفَان:تو ان میں کوئی اپنی منّت
[1]...بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی، باب مناقب عمر بن الخطاب رَضِیَ اللہُ عنہ ، صفحہ:936، حدیث:3693۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami