Share this link via
Personality Websites!
رَضِیَ اللہ عنہ راضِی رہے، یہ آپ کی خصوصی شان ہے* سارے ہی صحابہ اللہ پاک کی رِضَا کے طلب گار ہیں مگر جس شان کے ساتھ آپ طلبگار ہوئے، یہ ان ہی کی شان ہے۔
(1-2)نذرانہ جان اور تقدیر پر راضی رہنا
صحابئ رسول حضرت اَبُو مُوسیٰ اَشْعری رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں:ایک دِن میں رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے ساتھ مدینے کے باغوں (Gardens) میں سے ایک (Garden) باغ میں تھا* ایک شخص آیا، اس نے دروازے پر دستک دِی، سرکارِ عالی وقار، مکی مَدَنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: اِفْتَحْ لَہٗ وَ بَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ اس کے لیے دروازہ کھول دو اور اُسے جنّت کی بشارت دو۔ فرماتے ہیں: میں نے دروازہ کھولا تو یہ حضرت ابوبکر صدِّیق رَضِیَ اللہ عنہ تھے، میں نے اُنہیں جنّت کی خوشخبری سُنا دی۔ انہوں نے اللہ پاک کا شکر ادا کیا* کچھ دَیْر کے بعد پِھر دروازے پر دستک ہوئی، پیارے نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے پِھر فرمایا: اِفْتَحْ لَہٗ وَ بَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ دروازہ کھول دو اور اسے (یعنی آنے والے کو) جنّت کی خوشخبری سُنا دو! حضرت اَبْومُوسیٰ اَشْعَرِی رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے دروازہ کھولا، یہ آنے والے حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ تھے، میں نے اُنہیں بھی جنّت کی خُوشخبری سُنائی، اُنہوں نے بھی اللہ پاک کا شکر ادا کیا (اور بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہو گئے) *کچھ دَیْر کے بعد تیسری مرتبہ پِھر دروازے پر دستک ہوئی، اِس بار غیب کی باتیں جاننے والے نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: اِفْتَحْ لَہٗ وَ بَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ عَلٰی بَلْوٰی تُصِیْبُہٗ یعنی دروازہ کھول دو اور آنے والے کو بتا دو کہ ایک مصیبت جو انہیں پہنچے گی، اس کے بعد یہ جنّتی ہیں۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami