Share this link via
Personality Websites!
میں۔([1])
میں مُبَلِّغ بنوں سنّتوں کا، خُوب چرچا کروں سنّتوں کا
یاخُدا! درس دوں سنّتوں کا، ہو کرم! بہرِ شاہِ مدینہ([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کے 3 خاص اَوْصاف
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کی شانیں تَو بےشُمار ہیں، قرآنِ کریم کی کئی آیات بھی آپ کی شان میں نازِل ہوئیں، احادِیث میں بھی آپ کی بہت ساری شانیں بیان ہوئی ہیں، البتہ! آپ رَضِیَ اللہ عنہ کے3خاص اَوْصاف ہیں، جو دیگر صحابہ میں بھی ضرور موجود تھے مگر آپ رَضِیَ اللہ عنہ میں ان کا جَلْوَہ زیادہ دِکھائی دیتا ہے۔ وہ 3اَوْصاف یہ ہیں: حُضُور داتا گنج بخش علی ہجویری رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: مشائخِ طریقت یعنی بڑے بڑے اَوْلیائے کِرام نے (1):ہدیۂ مال و جان (یعنی اللہ پاک کے نام پر جان و مال قربان کرنا) (2):تسلیمِ اُمُور (یعنی اللہ پاک کی لکھی ہوئی تقدیر پر راضِی ہو جانا) اور (3):اِخْلاص (یعنی ہمیشہ رَبّ کی رضا کا طلب گار رہنا)، یہ 3خاص اَوْصاف حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ سے سیکھے ہیں۔([3])
مَعْلُوم ہوا؛ * اللہ و رسول کی خاطِر جان و مال کا نذرانہ اور بھی صحابہ نے پیش کیا مگر جس انداز سے حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ نے پیش کیا، یہ آپ ہی کا خاصَہ ہے* سارے ہی صحابہ اللہ پاک کی تقدیر پر راضِی رہنے والے ہیں مگر جس شان کے ساتھ حضرت عثمانِ غنی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami