Share this link via
Personality Websites!
وضاحت: بعض حضرات چھوٹا سا رُومال جس کے بمشکل ڈیڑھ، 2 پیچ ہی آسکتے ہوں، باندھتے ہیں، یہ عمامہ نہیں، نہ اِس سے عمامے کی سُنّت ادا ہو گی۔
فرمانِ آخری نبی صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
عِمامہ باندھنے والے کو قیامت کے دن عمامے کے ہر پیچ کے بدلے ایک نور عطا کیا جائے گا۔ ([1])
(1): عِمامہ باندھنا سنتِ مبارکہ ہے۔([2]) (2): عِمامہ شریف کی لمبائی کم از کم ڈھائی گز ، زیادہ سے زیادہ 6گز ہونا سنّت ہے ([3]) اور چوڑائی نصف ہاتھ (یعنی ہاتھ کی انگلیوں سے ناپنا شروع کریں تو آدھی کلائی)تک ہونی چاہیے۔اِس سے تھوڑی بہت کمی زیادتی میں حرج نہیں ۔ ([4]) (3): اتنا چھوٹا رُومال لپیٹنا جس کے صرف دو ایک پیچ آئیں مکروہ ہے۔ ([5]) (4): عِمامےشریف کا شملہ چھوڑنا سنت ہے۔([6]) شملے کی کم از کم مقدار 4 اُنگل ہے اور زیادہ سے زیادہ آدھی پیٹھ تک یعنی ایک ہاتھ ہو، حد سے زیادہ لمبا شملہ رکھنااِسْرَاف ہے اور بہ نیّت تکَبُّر ہو تو حرام ۔ ([7])
* عِمامہ مسلمانوں کا تاج ہے* عِمامہ پہننے سے حلم (قوتِ برداشت) میں اضافہ ہوتا ہے* عِمامہ حُسن وجمال میں اضافہ کرتا ہے* عِمامے میں عزت اور وقار ہے* عِمامہ پہن کر 2 رکعتیں پڑھنا بغیر عِمامے کی 70 رکعتوں سے افضل ہے*جو جمعہ کے دن عمامہ باندھے،اللہ پاک اُس پر رحمت
[1]...جامع صغیر ،صفحہ:353،حدیث :5725۔
[2]... فتاویٰ رضویہ،جلد:6،صفحہ:208 ۔
[3]...فتاوی رضویہ ،جلد:22،صفحہ:186،ملخصًا۔
[4]....کشف الالتباس فی استحباب اللباس ،صفحہ:38،جمیعت اشاعت اہلسنت۔
[5]...فتاوی رضویہ ،جلد:7،صفحہ:299۔
[6]...فتاوی رضویہ ،جلد:12،صفحہ:314 ۔
[7]...فتاوی رضویہ ،جلد:22،صفحہ:182،بتغیر قلیل ۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami