Share this link via
Personality Websites!
اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠(۹۳) (پارہ:7، المائدہ:93)
تَرْجمہ ٔکَنْزُالعِرْفان: ایمان رکھیں اور اچھے عمل کریں پھر ڈریں اور ایمان رکھیں پھر ڈریں اور نیکیاں کریں اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے
یعنی اے سُوال کرنے والے: جب تم مدینے پہنچو تو وہاں والوں کو بتانا کہ عثمان وہ عظیمُ الشّان ہیں*جنہوں نے ایمان قبول کیا*نیک اَعْمال کیے*ساری زندگی ایمان پر ثابت قدم رہے*ساری زندگی تقویٰ اپنائے رہے*اللہ پاک سے ڈرتے رہے*آپ ایسے نیکوکار ہیں جن سے اللہ پاک محبّت فرماتا ہے۔
سُبْحٰنَ اللہ!معلوم ہوا؛ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ ایمان اور تقوے پر ہمیشہ ثابِت قدم رہنے والے خوش نصیب ہیں۔
میں دِینِ اسلام کو ہر گز نہیں چھوڑوں گا
کتابوں میں لکھا ہے: جب حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ نے ایمان قبول کیا تو آپ کے چچا حَکم بن اَبِی عَاص نے آپ کو رسیوں کے ساتھ باندھ دیا اور کہا: جب تک تم اسلام سے پِھر نہیں جاؤ گے، میں تمہیں ہر گز نہیں کھولوں گا، اَسْتَغْفِرُ اللہ! (اس نے کئی دِن آپ کو یونہی تکلیف پہنچائی مگر) حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کی زبانِ پاک پر صِرْف ایک ہی بات تھی: خُدا کی قسم! اس پاکیزہ دِین کو ہر گز نہیں چھوڑوں گا۔
آخر وہی ہوا، حق جیت گیا، باطِل ہار گیا، حَکم بن اَبی عَاص نے جب حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کی ایمان پر اِستقامت دیکھی تو اسے ہتھیار ڈالنے پڑے، بالآخر اس نے آپ کو قید سے آزاد کر دیا۔([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami