Share this link via
Personality Websites!
باز نہ آیا۔ پِھر میں نے دُعا کی: یا اللہ پاک! اس بَدبَخت کی گستاخی تجھے ناراض کرتی ہے تو مجھے اس میں کوئی نشانی دِکھا۔ پس تبھی اس کا چہرہ کالا سیاہ ہو گیا۔([1])
اللہ! اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے! مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ اللہ رَبُّ العزّت کی بَارگاہ میں کتنا بلند مَقام رکھتے ہیں، آپ کی گستاخی رَبِّ قادِر و قَیُّوم کو بالکل پسند نہیں ہے، یہ ضروری نہیں کہ گستاخِ عثمان کی دُنیوی سزا سب پر ظاہِر ہو، البتہ یہ طَے ہے کہ جو حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ یا صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم کا گستاخ ہے اور بغیر توبہ کئے اسی حال میں مرجاتا ہے، آخرت میں سخت عذاب کا حقدار ہے۔
حضرت حسن رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ سے روایت ہے ،رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: جو دنیا سے اس حال میں گیا کہ وہ اگلوں(مثلاًصحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم اور تابعینِ کرام رَحمۃُ اللہ علیہم )کو بُرا کہتا ہو تو اللہ پا ک اس پر ایک جانور مسلّط کر دے گا ، جو اس کا گوشت نوچے گا اور وہ اس کی تکلیف قیامت تک محسوس کرے گا۔([2])
اَلْاَمَان وَالْحَفِیظ! پیارے اسلامی بھائیو! معاذ اللہ! صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم کوبُرا کہنا کس قدر سخت گنا ہ ہے کہ اللہ پاک اس گناہ کی وجہ سے قیامت تک کے لئے عذاب میں مبتلا کر دے گا ۔ یا درکھیے ! صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم کو بُرا کہنا بڑا ہی سخت گناہ، اپنی قبر کو جہنّم کا گڑھا بنانے اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے۔ یہ وہ مبارک ہستیاں ہیں، جن کے بارےمیں ہمارے پیارے آقا ،مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:اَصْحَابِيْ کَالنُّجُوْمِ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami