Share this link via
Personality Websites!
آسان خریدار اور آسان بیچنے والا ہو۔([1])
روزِ قیامت مُعَافی پانے کا نسخہ
سُبْحٰنَ اللہ! معلوم ہوا؛ جو بندہ خرید و فروخت میں اَڑیل نہ ہو، آسان معاملہ کرنے والا ہو، وہ جنّت کا حقدار ہے اور الحمد للہ! حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ خرید و فروخت میں آسانی فرمانے والے تھے۔ ہمیں بھی یہ وَصْف اپنانا چاہئے، ہم میں سے تقریباً ہر ایک کچھ نہ کچھ خریدتا یا بیچتا ہی ہے۔ ہمیں چاہئے کہ آسان مُعَاملہ کریں، بعض لوگ اَڑیل مزاج کے ہوتے ہیں، خریداری کرنی ہو تو اٹک جاتے ہیں، قیمت كم کروانے میں بہت زیادہ ہی بحث کرتے ہیں، ایک حد تک کرنی دُرست ہے بلکہ قیمت کم کروانے کو سُنّت بھی کہا گیا ہے مگر اس پر بس اٹک ہی جانا، یہ مُرَوَّت کے خِلاف ہے، اسی طرح بعض دُکاندار اڑیل قسم کے ہوتے ہیں، لکھ کر لگا دیتے ہیں: خریدا ہوا سامان واپس نہیں ہو گا۔ اس میں بھی کچھ گنجائش رکھنی چاہئے۔ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے، مالِکِ جنّت، رسولِ رحمت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: جس نےکسی مسلمان سے اِقَالہ کیا (مثلاً بیچا ہوا سامان واپس لیا)، قیامت کے دِن اللہ پاک اس کی لَغْزِش(غلطی) مُعَاف فرمائے گا۔([2])
خرید و فروخت وغیرہ کرتے وقت 2شخصوں کے درمیان جو عقد (یعنی آپس میں سودا طَے) ہوتا ہے، اسے ختم کر دینے کو اِقَالہ کہتے ہیں۔ شریعت نے اس کے باقاعِدہ اُصُول و ضوابط رکھے ہیں، جو بھی بندہ کچھ خریدتا یا بیچتا ہے، اسے اس کے احکام سیکھ لینے چاہئے، اس کے لئے بہارِ شریعت کا 11واں حصّہ پڑھ لیجئے! اور مدنی چینل پر چلنے والا سلسلہ اَحکامِ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami