Share this link via
Personality Websites!
مُعَاف فرما رہے ہیں۔ افسوس! ہمارے ہاں تو لوگ چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو بھی مُعَاف نہیں کرتے، بات بات پر اکڑتے ہیں، غصّہ دکھاتے ہیں، دِل میں دشمنی پال لیتے ہیں بلکہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا رواج ہے، یعنی سامنے والا جو تکلیف پہنچائے، اس سے بڑھ کر زیادہ تکلیف دیتے ہیں۔ کاش! ہمیں سمجھ نصیب ہو جائے، مُعَاف کرنا اللہ پاک کی سُنّت ہے، انبیائے کرام کی سُنّت ہے، امامُ الانبیا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی سُنّت ہے اور اللہ پاک کے نیک بندوں کا طریقہ ہے۔ جو مُعَاف کرتا ہے، وہ مُعَافی پاتا ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کے پیارے اخلاق میں سے یہ بھی ہے کہ آپ مُعَاملات میں آسانی فرمانے والے تھے۔ مسندِ امام احمد میں روایت ہے: ایک مرتبہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ نے ایک شخص سے زمین خریدی۔ اب اُس نے سودہ تو کر لیا مگر پیسے وُصُول نہ کئے۔ کافِی دِن گزر گئے، چنانچہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ اس کے پاس تشریف لے گئے، فرمایا: زمین کی قیمت کیوں نہیں لیتے؟ اس نے عرض کیا: عالی جاہ! مجھے تو دھوکا ہو گیا، لوگ مجھے ملامت کرتے ہیں (مثلاً کہتے ہیں کہ تم نے بہت سستے میں زمین بیج دی)۔ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا! اس لئے سودا مکمل نہیں کر رہے۔ بولا: جی ہاں۔ فرمایا: تمہیں زمین اور مال میں اختیار ہے، چاہو تو سودا ختم کر دو! چاہو تو رقم لے لو۔ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو فرماتے سُنا ہے: اَدْخَلَ اللہ الْجَنَّۃَ رَجُلًا کَانَ سَہْلًا مُشْتَرِیًا وَ بَائِعًا یعنی اللہ پاک اس بندے کو جنّت میں داخِل فرما دیتا ہے جو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami