Share this link via
Personality Websites!
کے باوُجُود عیش و عشرت والی زندگی نہیں گزاتے تھے۔ سادہ لباس پہنا کرتے تھے، مہنگی مہنگی چیزیں اپنی ذات کے لئے کم استعمال کرتے تھے، کتابوں میں لکھا ہے: جب آپ خلیفہ تھے تو لوگوں کو بہت اعلیٰ کھانے کھلاتے، پِھر گھر تشریف لاتے اور سِرکے اور زیتون کے ساتھ سادہ روٹی کھا لیا کرتے تھے۔ ([1])
سُبْحٰنَ اللہ! کیسی نِرالی بات ہے...!! *آدمی مالدار ہو*بڑا کاروبارہو*ہزاروں لاکھوں میں آمدن ہو، پِھر آدمی سادہ زندگی گزارے، مالدار ہونے کے باوُجُود دُنیا کی محبّت دِل میں نہ آنے دے، یہ کمال کی بات ہے، بہت ہی کمال کی بات ہے، ہمارے ہاں اُلٹ نظام ہے، لوگ اپنے لئے بہترین سے بہترین چیزیں خریدتےہیں، اعلیٰ سے اعلیٰ کھانے کھاتے ہیں مگر جب غریبوں کو دینے کی باری آتی ہے تو سَستی چیزیں، خستہ چیزیں، کم کوالٹی والی چیزیں غریبوں کو دیتے ہیں بلکہ استعمال شُدہ چیزیں غریبوں کو دے رہے ہوتے ہیں۔
اللہ پاک ہمیں ایسی توفیق نصیب فرمائے۔ کاش! دِل سے دُنیا کی محبّت نکلے، اللہ و رسول کو راضِی کرنے، جنّت پانے اور قبر روشن کروانے کا شوق ہمیں نصیب ہو جائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ مُعَاف کرنے والے
پیارے اسلامی بھائیو! ہمارے آقا، نُورِ خُدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے پیارے پیارے اَخْلاق میں سے بہت پیارا خُلق ہے کہ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم بہت مُعَاف فرمانے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami