Share this link via
Personality Websites!
سَلَّم نے اپنے پیارے صحابی حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کی بات سُنی تو فرمایا: عثمان! یہ جبریل عَلَیْہ ِالسَّلام ہیں، مجھے خبر دے رہے ہیں کہ تم آسمان والوں کا نُور ہو، زمین والوں کا اور جنّت والوں کا چراغ ہو۔([1])
آہ!*ہمیں بس دُنیاوی فِکْریں لاحق رہتی ہے*کاروبار کی فِکْر *نوکری کی فِکْر *کھانے پینے کی فِکْر*پہننے کی فِکْر*بَس ہر وقت انہی میں جکڑے رہتے ہیں، نہیں ہوتی تو جنّت میں جانے کی فکر نہیں ہوتی، جہنّم سے بچنے کی فِکْر نہیں ہوتی، اِیْمان بچانے کی فِکْر نہیں ہوتی، اللہ پاک کو راضِی کرنے کی فِکْر نہیں ہوتی، کاش! حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کے صدقے محبتِ اِلٰہی نصیب ہو جائے، ہم بھی اللہ پاک کو راضِی کرنے اور اس کی ناراضی سے بچنے کے لئے فِکْر مند رہنے والے بن جائیں۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو!ہمارے پیارے نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے پاکیزہ اَخْلاق میں سے ہے کہ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم دو جہان کے مالِک ہیں، رَبِّ رحمٰن نے آپ کو مالِکِ کُل بنایا ہے، اس کے باوُجُود آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم دُنیا سے بےرغبتی رکھتے تھے۔
حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کی سیرت میں بھی یہ پیارا خُلْق نظر آتا ہے*آپ غنی تھے*مالدار تھے*رَبِّ کریم نے آپ کو بہت سارا مال عطا فرمایا تھا، اس کے باوُجُود *آپ دُنیا سے بےرغبتی رکھتے تھے*دُنیا کی محبّت دِل میں آنے نہیں دیتے تھے*مالدار ہونے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami