Share this link via
Personality Websites!
حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کے صدقے ہمیں بھی حیا کی دولت نصیب فرمائے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
رِضائے اِلٰہی کے لئے بےقرار رہنا
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک بار حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ بیمار ہو گئے، سرکارِ عالی وقار، مکی مَدَنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم کو ساتھ لے کر ان کی تیمار داری کے لئے تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ چہرہ زمین کی طرف کر کے لیٹے ہوئے تھے۔ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: عثمان! کیا ہوا، اپنا سَر کیوں نہیں اُٹھاتے؟ عرض کیا: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! مجھے اللہ پاک سے حیا آتی ہے۔ سرکارِ عالی، مکے مدینے کے والی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: کیوں حیا آتی ہے؟ عرض کیا: یارَسُول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میرا ربِّ کریم مجھ سے ناراض نہ ہو گیا ہو...!! ([1])
اللہ اکبر! اے عاشقانِ رسول !حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ نے کوئی گُنَاہ کا کام نہیں کیا تھا، اللہ پاک کی ناراضی والا کوئی کام نہیں ہوا تھا، مگر جو سچا عاشِق ہوتا ہے، اسے بَس ہر وقت یہ ہی فکر لگی رہتی ہےکہ کہیں میرا مَحْبُوب مجھ سے نَاراض نہ ہو جائے، حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کو بھی اسی طرح کی فکر لگی ہوئی تھی، آپ زمین کی طرف چہرہ کر کے لیٹے ہوئے تھے، سَر اُوپَر نہیں اُٹھا رہے تھے، گویا اپنے طَوْر پر اِظْہارِ ندامت کر رہے تھے کہ ہائے! میرا رَبّ مجھ سے ناراض نہ ہو گیا ہو۔ جب سلطانِ انبیا، مَحْبُوبِ خُدا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami