Share this link via
Personality Websites!
عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اِسی اَنداز پر تشریف فرما رہے، پِھر حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ حاضِر ہوئے، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اِسی اَنداز پر تشریف فرما رہے، پِھر حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ حاضِر ہوئے تو آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے پنڈلی مُبارَک کو ڈَھانپ لیا، سَیِّدہ عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہ عنہا فرماتی ہیں: ان کے جانے کے بعد میں نے عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم! میرے والدِ محترم آئے، آپ اِسی طرح تشریف فرما رہے، عمر آئے، آپ پھر بھی اِسی طرح تشریف فرما رہے، جب عثمان آئے تو آپ نے پنڈلی مُبارَک ڈھانپ لی، اس میں کیا حکمت ہے؟ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: اَلَا اَسْتَحْیِیْ مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحْیِ مِنْہُ الْمَلَائِکَۃُ کیا میں اُس شخص سے حیا نہ کروں! جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! یہ ہیں حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ ...!! آپ ایسے باحیا ہیں کہ فرشتے بھی آپ سے حیا کرتے ہیں۔
ابن ماجہ کی حدیث ہے: بے شک ہر دین کا ایک خُلْق ہے اور اسلام کا خُلق حیاہے۔([2]) یعنی ہر اُمَّت کی کوئی نہ کوئی خاص خَصْلت و عادت ہوتی ہے جو دیگر خَصْلتوں پر غالِب ہوتی ہے اور اسلام کی وہ خَصْلت حیا ہے۔
اے عاشقانِ رسول!حیا کا ذِہن بنانے کے لئے امیرِاہلسنت مولانا محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا بہترین رِسالہ باحیا نوجوانمکتبۃُ المدینہ سے حاصل کرکے پڑھئے! اور دوسروں کو بھی پڑھنے کی ترغیب دلائیے اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! حیا کا دور دورہ ہوگا۔ اللہ پاک
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami