Share this link via
Personality Websites!
سُبْحٰنَ اللہ!پیارے اسلامی بھائیو! دیکھئے! دِین پر کیسی اِستقامت ہے۔ انتہائی پختہ ترِین اِیمان ہونا ہمارے آقا و مولیٰ، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا پیارا وَصْف ہے، دُنیا میں کوئی ایسا نہ ہے، نہ تھا، نہ کبھی ہو گا کہ جس کا ایمان جانِ اِیمان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم جیسا ہو، الحمد للہ! حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کو پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے اس پاکیزہ وَصْف کا فیضان نصیب تھا۔
کاش! ہمیں بھی دِیْن پر، اسلام پر، ایمان پر اِستقامت ملی رہے، کاش! اپنے اِیْمان کی حِفَاظت کی سوچ حقیقی معنوں میں نصیب ہو جائے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کے پیارے پیارے اَخْلاق میں سے ایک پیارا خُلْق حیا بھی ہے۔آپ اُمّت میں سب سے بڑے حیادار ہیں۔ جی ہاں! حدیثِ پاک میں ہے: حیا ایمان سے ہے اور عثمان رَضِیَ اللہ عنہ میری اُمّت میں سب سے بڑھ کر حیا کرنے والے ہیں۔([1])
مسلمانوں کی پیاری اَمِّی جان حضرت عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رَضِیَ اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم، رؤفٌ رحیم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم تشریف فرما تھے، آپ کی پنڈلی مُبارَک سے کپڑا ہٹا ہوا تھا، اس دوران حضرت ابو بکر صدِّیق رَضِیَ اللہ عنہ حاضِر ہوئے، آپ صَلَّی اللہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami