Share this link via
Personality Websites!
بلکہ سب سے بڑی فضیلت یہ بخشی جاتی ہے کہ انہیں روزِ قیامت اللہ پاک کا دِیدار اور ملاقات نصیب ہو جائے گی۔ قرآنِ کریم میں ہے:
وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُؕ-وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ(۲۲۳) (پارہ:2، سورۂ بقرہ:223)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور جان رکھو کہ تم اس سے ملنے والے ہو اور اے حبیب! ایمان والوں کوبشارت دو۔
اے فِرشتو! یہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں
حضرت ابراہیم بن شَیْبَان رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب قیامت کا دِن ہو گا، سب اگلے پچھلے رَبِّ قادِر و قَیُّوم کے حُضُور حاضِر ہوں گے، اُس وقت فِرشتے مسلمانوں کے ایک گِرَوہ کے پاس آئیں گے، اِرْشاد فرمائیں گے: اے اللہ پاک کے دوستو! چلو ہمارے ساتھ۔ وہ اَوْلیاءُ اللہ پوچھیں گے: کہاں جانا ہے؟ فِرشتے فرمائیں گے: اُس جنّت کی طرف جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے، تمہارے لیے بنائی گئی ہے۔ وہ اَوْلِیَاءُ اللہ عرض کریں گے: ہم نے زِندگی جنّت کی طلب میں تو نہیں گزاری، جب وہ یہ کہیں گے تو اللہ پاک اِرْشاد فرمائے گا: مَلَائِکَتِیْ اے میرے فرشتو! اُتْرُکُوْہُمْ انہیں چھوڑ دو...!! فَاِنَّہُمْ لَا یَرْضِیْہِمْ غَیْرَ النَّظْرِ اِلٰی وَجْہِیْ بیشک یہ میرے دِیدار کے سِوا کسی چیز سے راضِی نہیں ہوں گے۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! کیا نِرالی شانیں ہیں...!!
مسلم شریف کی حدیث ہے، رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے فرمایا:
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami