Share this link via
Personality Websites!
پر پھیرے اور مشکیزے کا منہ کھول کر فرمایا: آؤ! پیاسو...!! اپنی پاس بجھا لو...!!
ٹھنڈا ٹھنڈا میٹھا میٹھا پیتے ہم ہیں پلاتے یہ ہیں
ربّ ہے مُعْطِیْ یہ ہیں قاسِم رِزْق اس کا ہے کھلاتے یہ ہیں
سُبْحٰنَ اللہ! چھوٹا سا مشکیزہ تھا، سینکڑوں صحابہ تھے، سب نے اسی ایک مشکیزے سے خُوب سَیر ہو کر پانی پِیا، اپنے برتن بھی بھر لئے ، ابھی مشکیزے میں پانی پہلے کی طرح موجود تھا۔ غُلام نے جب یہ معجزہ دیکھا تو دِل میں ہدایت کا نُور اُتر گیا۔ گویا محبّتِ اِلٰہی کی بُوٹی ان کے دِل میں لگ بھی گئی اور اس نے مشک بھی مچا دیا۔
یہ حبشی غُلام محبّتِ رسول میں بےتاب ہو کر آگے بڑھے اور آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کے ہاتھ چومنے لگے۔ پیارے آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے اپنا مبارَک نُورانی ہاتھ اس غُلام کے چہرے پر پھیر دیا۔
شُدْ سَپَید آں زِنگی و زَادَۃ حَبَش
ہَمچو بَدر و رَوْزِ روشن شُد شَبَش
مفہوم: اُس سیاہ فام حبشی غُلام کا چہرہ فورًا ایسا سفید ہو گیا کہ گویا چودہویں کا چاند ہے اور اندھیری رات کو روشن کر رہا ہے۔
اب اُس غُلام نے کلمہ پڑھا اور صحابئ رسول بننے کی سعادت پا لی۔ اب یہ پیارے آقا کے سچّے غُلام اپنے دُنیوی مالِک کے پاس پہنچے، مالِک نے پہچانا ہی نہیں، کہا: میں آپ کا وہی غُلام ہوں۔ مالِک نے کہا: وہ تو حبشی اور سیاہ فام تھا۔ تم گورے چٹے، بڑے حسین ہو۔ غُلام نے سارا واقعہ بتایا اور کہا: میں نُور والے آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کا کلمہ پڑھ چُکا ہوں، اُن کی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami