Share this link via
Personality Websites!
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
صِبْغَةَ اللّٰهِۚ- (پارہ:1، سورۂ بقرہ:138)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اللہ کا رنگ۔
ہمارے ہاں عُمُوماً کہتے ہیں نا؛ فُلاں پر فُلاں کا رنگ چڑھ گیا *بیٹا غلط کاموں میں پڑ جائے تو کہتے ہیں: بُرے دوستوں کا رنگ چڑھ گیا ہے *نیک نمازی بن جائے تَو کہتے ہیں: اچھے دوستوں کا خُوب رنگ چڑھا ہے *کچھ عادتیں بچے کی فطرت اور طبیعت کا حِصَّہ ہوں تو کہتے ہیں: گھٹی (دینے والے) کا رنگ چڑھ گیا ہے۔ مطلب یہ کہ عادات، طَور طریقے، کردار، اَخْلاق اور سوچوں میں جو تبدیلی آتی ہے، اسے ہمارے ہاں عمومًا رنگ چڑھنا کہا جاتا ہے۔ اللہ پاک نے فرمایا:
صِبْغَةَ اللّٰهِۚ-وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً٘- (پارہ:1، سورۂ بقرہ:138)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: ہم نے اللہ کا رنگ اپنے اوپر چڑھالیا اور اللہ کے رنگ سے بہتر کس کا رنگ ہے؟
دوستوں کا رنگ اپنی جگہ، عزیز رشتے داروں کا رنگ اپنی جگہ، مُعَاشرے اور رَسْم ورواج کا رنگ اپنی جگہ مگر اللہ پاک کا رنگ اِن سب رنگوں سے خُوبصُورت بھی ہے، پیارا بھی ہے، سب رنگ فانی، سب رنگ عارضِی مگر اللہ پاک کا رنگ سب سے نِرالا، سب سے پیارا، سب اعلیٰ ہے۔
اللہ پاک کا رنگ کسے کہتے ہیں...؟
3رنگ ہیں جو دِل پر چڑھتے ہیں: (1):اِیْمان (2):تقویٰ (3):محبّتِ اِلٰہی۔ انہی 3رنگوں کو صِبْغَۃَ اللہ (یعنی اللہ پاک کا رنگ) کہا جاتا ہے۔([1]) اب آیتِ کریمہ کا مطلب یہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami