Share this link via
Personality Websites!
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: ہم نے اللہ کا رنگ اپنے اُوپر چڑھالیا اور اللہ کے رنگ سے بہتر کس کا رنگ ہے؟اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
سلطانُ المشائِخ حضرت سلطان باہُو رحمۃُ اللہ علیہ کی بڑی مشہور رُبَاعی ہے:
اَلِف اللّٰہ چَنْبِے دِی بُوٹی، میرے مَنْ وِچْ مُرشِد لَائِیْ ھُو
نَفِی اَثْبات دَا پانی مِلِیْس، ہَرْ رَگے ہَرْ جَائی ھُو
اَنْدر بُوٹی مُشْک مَچایا، جَاں پُھلَّاں تَے آئی ھُو
جِیْوَے مُرشِد کامِل باھُو جَیں ایہہ بُوٹی لائی ھُو([1])
چنبے کی بُوٹی چنبیلی کے پودے کو کہتے ہیں، صُوفیا اور اَوْلیائے کرام اِشاروں کی زبان میں محبّتِ اِلٰہی کو چنبے کی بُوٹی کہتے ہیں، شیخ سلطان باہُو رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میرے دِل میں اللہ پاک کی محبّت کی بُوٹی میرے مرشِدِ کامِل نے لگا دی، اس پر لَااِلٰہَ اِلَّا اللہ کا پانی لگایا یعنی کثرت سے کلمہ طیبہ کے ذِکْر سے یہ بُوٹی پَھلی، پُھولی اور تن بدن میں پھیل گئی، اب حالت یہ ہے کہ چنبے کی بُوٹی (یعنی محبّتِ اِلٰہی ) نے میرے باطِن کو مہکا دیا، میری جان اندر سے پُھولوں کا باغ بن گئی، اللہ پاک میرے مرشِد کو سلامت رکھے، جنہوں نے مجھ غریب پر ایسا کرم کر دیا ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو! دِل میں محبّتِ اِلٰہی کی بُوٹی لگ جانا اور اس کا یُوں اندر مشک مچا دینا ہی اِیْمان و دِین کی اَصْل رُوح ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami