Share this link via
Personality Websites!
بیان کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے ایک شرعِی مسئلہ عرض کرتا ہوں:
(درست شرعی مسئلہ اور عوام میں پائی جانے والی غلط فہمی کی نشاندہی)
مسئلہ: جمعہ کی اذانِ ثانی میں خاموش رہنا اولیٰ ہے۔
وضاحت: جمعہ کے دِن جب عربی والا خطبہ پڑھا جاتا ہے، یہ خطبہ خاموشی سے سُننا واجب ہے، اسی طرح جو خطبے سے پہلے اذان ہوتی ہے (جسے جمعہ کی اذانِ ثانی کہا جاتا ہے)، یہ اذان بھی تَوَجُّہ کے ساتھ خاموش رہ کر سننی چاہیے، اس وقت عموماً لوگ کشمکش میں رہتے ہیں، کچھ لوگ اس اذان کا جواب دے رہے ہوتے ہیں، کچھ نہیں دیتے، کچھ لوگ دورانِ اذان انگوٹھے چومتے ہیں، کچھ نہیں چومتے، دُرُست شرعی مسئلہ کیا ہے؟ سُن لیجیے! *خطیب صاحِب جنہوں نے عربی والا خطبہ پڑھنا ہے، اُن کے لئے اِس اذان کا جواب دینا اور انگوٹھے چومنا جائز ہے *باقی لوگوں کے لئے بہتر یہ ہے کہ نہ تو زبان سے اذان کا جواب دیں، نہ انگوٹھے چومیں۔([1])اللہ پاک ہمیں دُرست اسلامی اَحْکام سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
اَسْمَاءُ الحسنیٰ کی برکات (وظیفہ)
یَا رَزَّاقُ(اے بہت رِزْق دینے والے!)
جو کوئی نمازِ فجر کے فرض وسنّت کے درمیان 41دن تک روزانہ اللہ پاک کا پیارا نام
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami