Share this link via
Personality Websites!
اِلٰہی کا کمال نصیب ہو جائے، کاش! یہ بُوٹی ہمارے دِل میں بھی مشک مچا دے۔ اس کے لیے چند طریقے عرض کرتا ہوں:
(1):پُورے پُورے دِین میں آجائیے!
اس کا پہلا طریقہ تو یہ ہے کہ ہم پُورے پُورے اِسْلام کے اندر داخل ہوجائیں۔ بعض لوگ بلکہ آج کل تَو بہت سارے لوگ ہیں جو اِسْلام کے اندر داخِل نہیں ہوتے بلکہ کنارے پر کھڑے رہتے ہیں، قرآنِ کریم میں اِرْشاد ہوا:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍۚ- (پارہ:17، سورۂ حج:11)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور کوئی آدمی وہ ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پرہو کر کرتاہے۔
یعنی کچھ لوگ ہیں، جو مکمل طَور پر دِین کے اندر نہیں آتے، کنارے کھڑے رہتے ہیں۔([1])
*رمضان شریف آ گیا تونمازیں شروع کر لِیں، ورنہ بَس گزارا کر لیا *شبِ براءَت وغیرہ بڑی راتیں آ گئیں تو مسجد کا رُخ کر لیا، ورنہ دُنیوی مصروفیات میں لگے رہے *نماز پڑھ لی مگر داڑھی بڑھانے کا ذہن نہ بن سکا *عقیدے تو سارے ٹھیک ہیں مگر مسجد میں آنا، شریعت کی پیروی میں زندگی گزارنے کا ذِہن نہیں بن پاتا *بعضوں کو مَوْلَوِی بننے میں شرم جھجھک محسوس ہوتی ہے کہ داڑھی بڑھا لی، سُنّت کے مطابق لباس پہن لیا تو لوگ کیا کہیں گے...!!
یہ انداز مت اپنائیے! اللہ پاک نے فرمایا ہے:
اُدْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً۪- (پارہ:2، سورۂ بقرہ:208)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اسلام میں پورے پورے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami