Share this link via
Personality Websites!
و َسَلَّم صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان سے فرما رہے تھے:
اُرْفُقُوْا بِهِ رَفَقَ اللهُ بِہٖ فَاِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ
ترجمہ: عبد اللہ پر نرمی کرو! اللہ پاک بھی اس پر نرمی فرمائے گا، بیشک یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبّت رکھنے والے ہیں۔([1])
پیارے آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے اپنے رحمت بھرے ہاتھوں سے انہیں قبر میں اُتارا اور 3 مرتبہ یہ دُعا کی:
اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَمْسَيْتُ عَنْهُ رَاضِيًا فَارْضَ عَنْهُ
ترجمہ: اے اللہ پاک! میں عبد اللہ سے راضِی ہوں، تُو بھی اس سے راضی ہو جا۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عنہ بھی اس وقت حاضِر تھے، فرماتے ہیں: یہ دُعائے مصطفےٰ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم (اور ایسی کرم نوازیاں ) دیکھ کر میرا دِل مچل رہا تھا، مجھے رشک آ رہا تھا کہ کاش! اس قبر میں اُترنے والا میں ہوتا (اور یہ کرم نوازیاں مجھ پر ہو رہی ہوتیں)۔ ([2])
اے عشق تِرے صدقے، جلنے سے چھٹے سستے جو آگ بجھا دے گی، وہ آگ لگائی ہے([3])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ ہے وہ اللہ پاک کا رنگ، پیارا پیارا رنگ...! جب دِل پر چڑھتا ہے تو کیسی کیسی شانوں تک پہنچا دیتا ہے۔
دِل پر اللہ کا رنگ چڑھانے کے طریقے
پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک ہمیں بھی توفیق نصیب فرمائے، کاش! ہمیں بھی محبّتِ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami