Share this link via
Personality Websites!
ہوئے بارگاہِ رسالت میں پہنچ گئے۔
دونوں جہاں تیری محبّت میں ہار کر
وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کر
پیارے آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے جب انہیں دیکھا تو چہرۂ پاک پر خوشی پھیل گئی، آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے کرم کی بارش کرتے ہوئے فرمایا: اِلْتَزِمْنَا وَ كُنْ مَعَنَا اے عبد اللہ! ہمارا دامن تھام لو اور ہمارے ساتھی بن جاؤ...!!
سُبْحٰنَ اللہ! ایک عاشق کو اس کے سِوا اَور کیا چاہیے...؟
پھر مجھے موت کا کوئی خطرہ نہ ہو موت کیا زندگی کی بھی پروا نہ ہو
کاش سرکار اک بار مجھ سے کہیں، اب تیرا مرنا جینا مدینے میں ہے
حضرت عبد اللہ ذُو الْبِجَادَيْنِ کے بڑے نصیب تھے، آپ اَصْحابِ صُفَّہ کے ساتھ رہتے، کبھی کبھی محبّتِ اِلٰہی غلبہ کرتی تو اُونچی اُونچی آواز میں ذِکْرُ اللہ شروع کر دیتے، حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ نے ایک بار انہیں یُوں ذِکْر کرتے دیکھ کر بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: اَ مُراءٍ ہُوَ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم ! کیا یہ دِکھلاوا ہے؟ فرمایا: فَاِنَّهُ اَحَدُ الْاَوَّابِيْنَ (یعنی اے عمر! یہ دِکھلاوا نہیں )بلکہ (عبد اللہ ، اللہ و رسول کا فرمان بردار اور ) رجوع لانے والا ہے (اسی کیفیت کے غلبے میں اُونچی آواز سے ذِکْر کیا کرتے ہیں)۔([1])
حضرت عبد اللہ رَضِیَ اللہ عنہ جب شہید ہوئے تو پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے ان پر بہت شفقت فرمائی، جب جنازہ لے جایا جا رہا تھا، آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami