Share this link via
Personality Websites!
والے تھے۔ آپ کو توفیق ملی، پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کے کرم والے ہاتھ پر کلمہ پڑھ لیا مگر ابھی اِیْمان کو چھپائے رکھنے کا حکم تھا، چنانچہ اپنا اِیْمان چھپائے ہوئے گھر میں رہتے رہے۔ لیکن کہتے ہیں: محبّت چھپائے چھپتی نہیں ہے۔
حضرت عبد اللہ رَضِیَ اللہ عنہ کا بھی یہی حال تھا، گھر میں اگرچہ سب مُشْرِک تھے مگر جب کبھی پیارے آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم یا اِسْلام و دِین کا تذکرہ ہوتا تو ان کی آنکھوں میں محبّت کی چمک آجاتی، دِل بےتاب ہو جاتا، ان کے چہرے سے صاف پتا چل جاتا تھا کہ عبداللہ کے دِل میں کچھ ہے۔
جذباتِ محبّت چُھپ نہ سکے گو ضبط سے ہم نے کام لیا
اَشک آنکھوں میں اپنے بھر آئے جب تیرا کسی نے نام لیا
آخر گھر والوں کو پتا چل ہی گیا کہ حضرت عبد اللہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو چکے ہیں، چنانچہ گھر والوں نے بہت سختیاں کیں، بعض روایات کے مطابق یہ اپنے مامُوں کے ہاں رہتے تھے، ماموں نے بڑے نازوں سے پالا تھا مگر جب ان کے کلمہ پڑھنے کا عِلْم ہوا تو مامُوں نے آج تک جو کچھ دیا تھا، سب واپس لے لیا، یہاں تک کہ تَن کے کپڑے بھی اُتروا لیے اور گھر سے نکال دیا۔
آپ کی اَمِّی نے چپکے سے ایک چادر دِی تاکہ اپنا بدن چھپا سکیں۔ چنانچہ آپ نے چادر کے 2حصّے کیے، ایک سے تہبند باندھ لیا، ایک اُوپَر اوڑھ لیا۔ اسی لیے پیارے آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے آپ کو ذُو الْبِجَادَيْنِ (یعنی 2چادروں والا) کا لقب عطا فرمایا۔
اب آپ تنہا تھے، بےگھر تھے، ننگے پاؤں، بھوکے پیاسے جنگلوں صحراؤں سے گزرتے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami