Share this link via
Personality Websites!
اِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِيضَ، اَوِ الْمَيِّتَ، فَقُولُوا خَيْرًا، فَاِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ
ترجمہ:جب تم کسی مریض یا میت کے پاس جاؤ! تو اچھی ہی بات مُنہ سے نکالا کرو کیونکہ فرشتے اس کے پاس موجود ہوتے ہیں، تم جو کہتے ہو، فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔([1])
اللہ اکبر! اللہ پاک کا رنگ جس پر چڑھتا ہے، اس کی شان دیکھیے...!! یہ کسی غوث، قطب، اَبْدال، بہت بڑے وَلِیُّ اللہ کی بات نہیں ہو رہی، چاہے کوئی عام سا بندہ ہے، بظاہِر کوئی امیر کبیر بھی نہیں ہے، بہت بڑا کوئی بزرگ بھی نہیں ہے، چاہے وہ شہر کے کنارے پر کپڑے کی جھونپڑی میں رہتا ہے لیکن اس کے دِل میں اِیْمان کا نُور موجود ہے، اُس کے دِل میں محبّتِ اِلٰہی کی بُوٹی نے مشک مچایا ہوا ہے، اِس نُورِ اِیْمان ہی کی بدولت اُس کی شان یہ ہو گئی ہے کہ فرشتے ہر وقت اُس کے پاس حاضِر ہیں، کوئی صبح کو آئے، یا شام کو ، جس وقت بھی کوئی اُس کی عیادت کے لیے آ رہا ہے، وہ جو کچھ بولتا ہے، دُعائیں کرتا ہے، فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔
پیارے اسلامی بھائیو! یہ خُوبصُورت رنگ ہے، اللہ کا رنگ...!! جب یہ دِل پر چڑھتا ہے تو آدمی کو عظمت و عروج کی اُن بلندیوں پر پہنچا دیتا ہے کہ اتنی اُونچائی کا تصوُّر بھی نہیں کیا جا سکتا۔
یہ اللہ و رسول سے محبّت کرتے ہیں
حضرت عبد اللہ ذُو الْبِجَادَيْنِ رَضِیَ اللہ عنہ صحابئ رسول ہیں۔ مُزْنِیَہ نامی قبیلے کے رہنے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami