Share this link via
Personality Websites!
فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ۔
والِد صاحِب کو خُوشبو سے پہچان لیا
پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے حضرت ابراہیم و حضرت اِسْماعیل علیہما السَّلام کا تفصیلی واقعہ سُنا۔ اِس واقعہ میں حضرت اِسْماعیل علیہ السَّلام کے بےمثال کردار پر ذرا غور فرمائیے! آپ گھر پر موجُود نہیں تھے، والِد صاحِب یعنی حضرت ابراہیم علیہ السَّلام تشریف لائے، آپ سے ملے بھی نہیں، دُور سے دیکھا بھی نہیں،اِس کے باوُجُود جب آپ گھر پہنچے تو صِرْف ہواؤں میں موجُود خُوشبو سے پہچان لیا کہ ہو نہ ہو، آج والِدِ محترم تشریف لائے تھے۔ یہ باقاعِدَہ بُخاری شریف میں حدیثِ پاک کے الفاظ ہیں:
فَلَمَّا جَاءَ اِسْمَاعِيلُ كَاَنَّهُ آنَسَ شَيْئًا
جب حضرت اسماعیل علیہ السَّلام واپس تشریف لائے تو آپ نے (ہواؤں، فضاؤں اورگھر کے دَر و دِیْوار میں) اپنائیت محسوس کی۔ ([1])
آپ ذرا بیٹے کا اپنے والِد صاحِب کے ساتھ جذباتی لگاؤ دیکھیے! کیسا کمال کا لگاؤ ہے، کیسی بےمثال محبّت ہے، صِرْف ہواؤں میں موجُود خُوشبو سے والِد صاحب کی آمد کو پہچان رہے ہیں۔
افسوس! اب ہمارے یہاں حالات بہت بُرے ہیں *ہمارے ہاں تو ماں باپ گھر ہی میں موجود ہوتے ہیں، اُن کے پاس بیٹھنا نصیب نہیں ہوتا *اَمِّی جان بیمار ہوتی ہیں، بیٹے کو خبر تک نہیں ہو پاتی *ساری رات اَبُّو جان بُخار میں تپتے رہے، اُونچی اُونچی کھانستے رہے، بیٹا ہے کہ لمبی تان کر سویا رہتا ہے *اَمِّی اَبُّو کے پاس بعض دفعہ کپڑے نہیں ہوتے، بیچارے ایک ہی سُوٹ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami