Share this link via
Personality Websites!
علیہ السَّلام کی پیشانی مبارَک میں بھی یہی نُورِ پاک چمک رہا تھا۔ آپ کی پہلی زَوْجہ چُونکہ ناشکری طبیعت رکھتی تھی، اِس لیے وہ پیارے آقا و مولیٰ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی دادی جان بننے کے لائق نہیں تھی، اِس لیے حضرت ابراہیم علیہ السَّلام نے اُسےطلاق دے کر کسی اعلیٰ تَرِین طبیعت والی، نہایت ہی نیک طبیعت خاتُون سے نِکاح کا حکم فرمایا۔
یعنی یہ جَو طلاق دِلوائی گئی، یہ اِس لیے نہیں تھی کہ ناشکری بیوی کو طلاق دینا لازم ہے بلکہ یہ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے نُورِ پاک کی تعظیم کے لیے تھی۔
لہٰذا یہ ہر گز نہیں ہونا چاہیے کہ کسی کی زوجہ ناشکری طبیعت کی ہو تو وہ اُسے طلاق دے ڈالے۔ ہمیں چاہیے کہ گھر میں نیکی کی دعوت دیا کریں، پیار محبّت سے سمجھایا کریں، طلاق مسئلے کا حَلْ نہیں ہوتا بلکہ ایک طلاق کے بُرے اَثَرات کئی نسلوں تک پہنچتے اور رشتوں میں دراڑ ڈال دیتے ہیں۔ اِسی لیے حدیثِ پاک میں ارشاد ہوا:اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَى اللَّهِ الطَّلَاقُیعنی اللہ پاک کے ہاں حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔([1])
اگر کسی کو گھر میں دُشْواری ہو بھی، مثلاً زَوْجہ بہت تنگ کرتی ہے، بہت فرمائشیں (Demands)کرتی ہے، ہر وقت شکوے شکایت ہی کرتی رہتی ہے تَو اِس سے بھی گھبرانا نہیں چاہیے، صبر و تحمل کے ساتھ، سمجھا بُجھا کر ساتھ چلنے اور چَلانے کی کوشش میں لگے رہنا چاہیے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْــٴًـا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا(۱۹) (پارہ:4، سورۂ نساء:19)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:پھر اگر تمہیں وہ ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami