Share this link via
Personality Websites!
حضرت اسْماعیل علیہ السَّلام کی یہی زوجہ محترمہ ہیں جن کی اَوْلاد سے تمام جہانوں کے مالِک و مختار، نبیوں کے سردار، مکی مدنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی وِلادتِ باسعادت ہوئی اور حضرت اِسْماعیل علیہ السَّلام کی اُن نیک طبیعت اور شکر گزار زَوجہ محترمہ کو پیارے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی دادی جان بننے کا شرف نصیب ہو گیا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
کیا ناشکری زَوْجہ کو طلاق دے دینی چاہیے...؟
پیارے اسلامی بھائیو! بُخاری شریف میں بیان ہونے والے اِس واقعہ میں ہمارے لیے سیکھنے کی کافِی باتیں ہیں لیکن پہلے ایک ضَرورِی وضاحت (Explanation)سُن لیجیے! حضرت اِسْماعیل علیہ السَّلام کی پہلی زَوْجہ نے نَاشُکْری (Ingratitude)کی تو حضرت ابراہیم علیہ السَّلام نے اُس زوجہ کو طلاق دے دینے کا حکم دیا۔کیا اِس سے ہم یہ سیکھ سکتے ہیں کہ ناشکری کی وجہ سے زَوْجہ کو طلاق دے دی جائے...؟ تَوَجُّہ سے سنیے! اِس واقعہ سے یہ سبق ہر گز نہیں ملتا کہ نا شکری عورت کو طلاق دینا لازم ہے بلکہ اِس طلاق کی حکمت سمجھیے! اَصْل میں حضرت آدم علیہ السَّلام کی پیشانی مُبَارَک میں پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا نُورِ پاک رکھا گیا تھا۔ اللہ پاک نے آپ سے یہ وعدہ لیا تھا کہ اِس نُور کی خاص حِفَاظت اور عزّت و تَکْرِیْم کے لیے اپنے وقت کی اعلیٰ تَرِین اور نیک سے نیک تَر خاتُون ہی کی طرف منتقل (Move)کیا جائے گا۔([1]) یہی وعدہ حضرت آدم علیہ السَّلام نے اپنے بیٹے حضرت شِیْث علیہ السَّلام سے لیا، پِھر حضرت شیث علیہ السَّلام نے اپنے بیٹے سے، یُوں چلتے چلتے نسل دَرْ نسل یہ وعدہ لیا جاتا رہا،([2]) حضرت اِسْماعیل
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami