Share this link via
Personality Websites!
کھاتے کیا ہو؟ عرض کیا: گوشت۔ پوچھا: پیتے کیا ہو؟ کہا: پانی۔ آپ نے دُعا دیتے ہوئے کہا:
اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي اللَّحْمِ وَالمَاءِ
ترجمہ: اے اللہ پاک! ان کے گوشت اور پانی میں برکت عطا فرما۔
پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: اُن دِنوں مکّہ پاک میں اَناج نہیں ہوتا تھا، ورنہ حضرت ابراہیم علیہ السَّلام اِس کے لیے بھی دُعا فرما دیتے۔ مزید فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کی دُعائے پاک ہی کا اَثَر ہے کہ مکّہ پاک ہی میں صِرْف گوشت اور پانی پر گزارا کیا جا سکتا ہے، کہیں اور ایسا ہو تو یہ طبیعت کے موافق نہیں بیٹھتے۔
خیر! حضرت ابراہیم علیہ السَّلام اپنی نئی بہو کی شکر گزاری اور نیک طبیعت سے بہت خُوش ہوئے، فرمایا: جب اسماعیل آئے تو انہیں میرا سلام دینا اور کہنا:
يُثْبِتُ عَتَبَةَ بَابِهِ
ترجمہ: اپنے گھر کی چوکھٹ کو ثابِت رکھو...!!
یہ کہہ کر حضرت ابراہیم علیہ السَّلام واپس تشریف لے گئے۔ جب حضرت اِسْماعیل علیہ السَّلام گھر تشریف لائے تو آج پِھر ہواؤں میں جانی پہچانی خُوشبو تھی، خاص قسم کے اَنْوار و تجلیات تھے۔ زوجہ سے پُوچھا: آج کوئی آیا تھا؟ عرض کیا: جی ہاں! اِس اِس شکل و صُورت کے ایک بزرگ تشریف لائے تھے۔ بہت حسین تھے، بہت ہی نیک طبیعت تھے۔ پِھر زوجہ محترمہ نے ساری تفصیلات عرض کیں۔ سب باتیں سُن کر حضرت اِسْماعیل علیہ السَّلام نے فرمایا: وہ میرے والِدِ محترم حضرت ابراہیم علیہ السَّلام تھے، وہ حکم دے کے گئے ہیں کہ تمہیں اپنے نِکاح میں برقرار رکھوں...!! ([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami