Share this link via
Personality Websites!
رہی ہے؟ آپ کی زَوْجَہ کہنے لگی: بہت بُرے حالات ہیں، بَس تنگی ہی میں دِن گزر رہے ہیں۔ یوں کر کے اُس نے شکوے کر دئیے۔ حضرت ابراہیم علیہ السَّلام نے اپنی بہو کے شکوے سننے کے بعد فرمایا: اِسْماعیل آئے تو اسے میرا سلام کہنا اور کہنا:
يُغَيِّرْ عَتَبَةَ بَابِهِ
ترجمہ: اپنے دَرْوازے کی چوکھٹ بدل ڈالو...!!
یہ کہہ کر حضرت ابراہیم علیہ السَّلام واپس ملکِ شام تشریف لے گئے۔حضرت اِسْماعیل علیہ السَّلام جب واپَس تشریف لائے تو آپ کو گھر کے اندر کچھ اپنائیت سِی محسوس ہوئی، آج ہواؤں میں کچھ جانی پہچانی مہک (Smell)تھی، کچھ خاص اَنْوار و تجلیات کی روشنی تھی۔
آپ نے زَوْجہ سے پُوچھا: کیا آج کوئی آیا تھا؟ کہا: جی ہاں! اِس اِس حلیے کے ایک بزرگ تشریف لائے تھے۔ فرمایا: تمہاری اُن سے کیا کیا باتیں ہوئیں؟ زوجہ نے ساری تفصیل بتا دی۔ حضرت اِسْماعیل علیہ السَّلام نے فرمایا: وہ میرے والِدِ ذیشان، اللہ پاک کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السَّلام تھے اور میرے گھر کی چوکھٹ تُم ہو، اُنہوں نے تمہیں جُدا کر دینے کی نصیحت فرمائی ہے۔ یہ بتا کر آپ نے اپنی زوجہ کو احترام کے ساتھ میکے بھیج دیا۔
کچھ ہی عرصے کے بعد آپ نے قبیلہ جُرْہَم کی ایک دوسری خاتُون حضرت رَعْلَہ (Ra'la)رَحمۃُ اللہ علیہا کے ساتھ نِکاح فرمایا۔ ([1])ایک دِن پِھر یُونہی ہوا؛ حضرت اِبراہیم علیہ السَّلام تشریف لائے، حضرت اِسْماعیل علیہ السَّلام آج بھی گھر پر موجُود نہیں تھے، آپ نے اپنی نئی بہو سے پُوچھا: اِسْماعیل کہاں ہے؟ عرض کیا: باہَر تشریف لے کر گئے ہیں۔ فرمایا: گزر بَسَر کیسی ہو رہی ہے؟ عرض کیا: بہت خیریت ہے (مزے سے دِن گزر رہے ہیں)۔ فرمایا:
[1]...عمدۃ القاری، کتاب احادیث الانبیا، باب (یزفون)النسلان فی المشی، جلد:11، صفحہ:76، زیرِ حدیث:3364 ۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami